جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

مذاکرات کے دوران بات باہر نہیں کرنی چاہیے، عمران خان

datetime 3  اکتوبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہاہے کہ بس یہ کیس مجھ پر بننا باقی ہے کہ چائے میں روٹی ڈبو کر کیوں کھاتا ہے،چوروں کو دوسری مرتبہ این آر او دیا جارہاہے،سیاسی جماعتوں سے بات کی جاسکتی ہے مگر مجرموں سے نہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر

غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح چوروں کو دوسری بار این آر او دیا جا رہا لوگ مایوس ہیں،آج لوگوں میں مایوسی پھیل چکی ہے۔صحافی کی جانب سے مریم نواز کو پاسپورٹ واپس ملنے سے متعلق سوال کے جواب میں کہاکہ یہ واضح ہو گیا ہے اس ملک میں رْول آف لا نہیں،اسمبلی میں ہم واپس نہیں بیٹھیں گے،ہم سیاسی لوگ ہیں سیاسی لوگ بات ہی کرتے ہیں بندوق نہیں اٹھاتے،بات سیاسی لوگوں سے ہی ہو گی مجرموں کے ساتھ نہیں۔طاقتور لوگوں سے بات چیت کی خبروں سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہاکہ سیاستدان بات چیت کی جاسکتی ہے مگر مجرموں سے بات نہیں ہو گی،سیاستدان کے بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران بات باہر نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ مجھ پر صرف ایک کیس باقی رہ گیا ہے جو اس حکومت نے نہیں بنایا،عقلمندی کا ثبوت ہے کہ جب بات چیت چل رہی ہو تو عقلمندی کا ثبوت ہے کہ خاموش رہا جائے،بس یہ کیس مجھ پر بننا باقی ہے کہ چائے میں روٹی ڈبو کر کیوں کھاتا ہے۔ٹیلی تھون رقم سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہاکہ ٹیلی تھون سے جمع رقم ہفتے سے لوگوں مین تقسیم کریں گے،ٹیلی تھون سے جمع رقم سب صوبوں میں تقسیم کی جائیگی، عمران خان نے سائفر کی کاپی غائب ہونے سے متعلق سوال پرصرف مسکرا کرخاموش ہو گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…