منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

شیخ رشید کو 72 رکنی وفاقی کابینہ کی تشکیل کے خلاف عدالت میں درخواست دینا مہنگا پڑ گیا

datetime 27  ستمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد(این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ 72 رکنی وفاقی کابینہ کی تشکیل کے خلاف عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی سیاسی نوعیت کی پٹیشن عدالت لانے پر شدید برہم ہو گئی جس کے بعد شیخ رشید نے پٹیشن واپس لینے کی استدعا کر دی۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 72 رکنی وفاقی کابینہ کی تشکیل کے خلاف عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی درخواست پر سماعت کی۔

شیخ رشید اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آئندہ ایسی درخواست لائی گئی تو مثالی جرمانہ کریں گے، پارلیمنٹ کی مزید بے توقیری نہ کریں، اسی مائنڈ سیٹ نے پارلیمنٹ کو نقصان پہنچایا ہے۔شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ اس حوالے سے عدالت کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی فورم نہیں ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس پارلیمنٹ کی بہت بے توقیری ہو چکی، ایسی درخواست عدالت نہیں آنی چاہیے، پارلیمنٹ میں منتخب نمائندے ہیں، وہ فورم ہے، وہاں جائیں، عدالت مداخلت نہیں کرے گی۔عدالت نے استفسار کیا کہ پٹیشنر جب حکومت میں تھے تو کیا آپ نے وہ معاونینِ خصوصی اور مشیروں کی لسٹ لگائی تھی؟چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ شیخ رشید وزیرِ داخلہ تھے تو کیا انہوں نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا، ان کو اندازہ نہیں وہاں ہو کیا ہو رہا ہے، شیخ صاحب! آپ کا احترام ہے، آپ پارلیمنٹ کی بے توقیری نہ کریں، یہ کورٹ پارلیمنٹ کا بھی احترام کرتی ہے، ایگزیکٹیو کے اختیارات میں بھی غیر ضروری مداخلت نہیں کرتی۔

اگر آپ کا کوئی انفرادی بنیادی حق متاثر ہو رہا ہے تو ضرور عدالت آئیں لیکن اس طرح نہیں، یہ آپ کی بے بنیاد درخواست ہے، جرمانہ بھی کر سکتے تھے لیکن تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جو بھی مقابلہ کرنا ہے جائیں پارلیمنٹ میں، پارلیمنٹ سے بڑا فورم اور کوئی نہیں ہے، حکومت کا احتساب پارلیمنٹ خود کرتی ہے، آپ عدالت کو پارلیمنٹ کے احتساب میں کیوں لا رہے ہیں؟ شیخ صاحب! آپ کا احترام ہے، عدالتوں کو ان سیاسی معاملات سے دور رکھیں۔اس موقع پر شیخ رشید نے استدعا کی کہ پٹیشن واپس لے لیتے ہیں۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ اس حوالے سے مناسب آرڈر پاس کریں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…