جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

شیخ رشید کو 72 رکنی وفاقی کابینہ کی تشکیل کے خلاف عدالت میں درخواست دینا مہنگا پڑ گیا

datetime 27  ستمبر‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ 72 رکنی وفاقی کابینہ کی تشکیل کے خلاف عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی سیاسی نوعیت کی پٹیشن عدالت لانے پر شدید برہم ہو گئی جس کے بعد شیخ رشید نے پٹیشن واپس لینے کی استدعا کر دی۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 72 رکنی وفاقی کابینہ کی تشکیل کے خلاف عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی درخواست پر سماعت کی۔

شیخ رشید اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آئندہ ایسی درخواست لائی گئی تو مثالی جرمانہ کریں گے، پارلیمنٹ کی مزید بے توقیری نہ کریں، اسی مائنڈ سیٹ نے پارلیمنٹ کو نقصان پہنچایا ہے۔شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ اس حوالے سے عدالت کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی فورم نہیں ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس پارلیمنٹ کی بہت بے توقیری ہو چکی، ایسی درخواست عدالت نہیں آنی چاہیے، پارلیمنٹ میں منتخب نمائندے ہیں، وہ فورم ہے، وہاں جائیں، عدالت مداخلت نہیں کرے گی۔عدالت نے استفسار کیا کہ پٹیشنر جب حکومت میں تھے تو کیا آپ نے وہ معاونینِ خصوصی اور مشیروں کی لسٹ لگائی تھی؟چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ شیخ رشید وزیرِ داخلہ تھے تو کیا انہوں نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا، ان کو اندازہ نہیں وہاں ہو کیا ہو رہا ہے، شیخ صاحب! آپ کا احترام ہے، آپ پارلیمنٹ کی بے توقیری نہ کریں، یہ کورٹ پارلیمنٹ کا بھی احترام کرتی ہے، ایگزیکٹیو کے اختیارات میں بھی غیر ضروری مداخلت نہیں کرتی۔

اگر آپ کا کوئی انفرادی بنیادی حق متاثر ہو رہا ہے تو ضرور عدالت آئیں لیکن اس طرح نہیں، یہ آپ کی بے بنیاد درخواست ہے، جرمانہ بھی کر سکتے تھے لیکن تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جو بھی مقابلہ کرنا ہے جائیں پارلیمنٹ میں، پارلیمنٹ سے بڑا فورم اور کوئی نہیں ہے، حکومت کا احتساب پارلیمنٹ خود کرتی ہے، آپ عدالت کو پارلیمنٹ کے احتساب میں کیوں لا رہے ہیں؟ شیخ صاحب! آپ کا احترام ہے، عدالتوں کو ان سیاسی معاملات سے دور رکھیں۔اس موقع پر شیخ رشید نے استدعا کی کہ پٹیشن واپس لے لیتے ہیں۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ اس حوالے سے مناسب آرڈر پاس کریں گے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…