اتوار‬‮ ، 22 مارچ‬‮ 2026 

سپریم کورٹ ،شہباز گل پر تشدد، وفاق کو نوٹس ، تفتیشی کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم

datetime 16  ستمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ اور مبینہ تشدد کیخلاف دائر درخواست کی سماعت کے موقع پر شہباز گل کے وکیل کی عدم تیاری پیش ہونے کے عمل پراظہار برہمی کرتے ہوئے سوال اٹھایا ھے کہ کیا پی ٹی آئی دور حکومت میں پولیس نے کسی قیدی پر تشدد نھیں کیا؟ تشدد کیخلاف شہباز گل کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنا ہوگا۔

عدالت عظمی نے اس موقع کیس کے تفتیشی افسر کو ریکارڈ سمیت طلب کرنے سمیت وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر کے معاملہ غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر دیا ہے۔ جمعہ کو عدالت عظمی میں معاملہ کی سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیئے کہ ٹرائل کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا،جو تشدد شہباز گل پر کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اس موقع پر پوچھا کہ شہباز گل نے کہا کیا تھا کس بنیاد پر کیس بنایا گیا،وکیل سلمان صفدر نے بتایا کہ شہباز گل نے ایک تقریر کی جس کو بنیاد بنا کر 13 دفعات لگائی گئیں،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے شہباز گل کے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ بتائیں کس بنیاد پر جسمانی ریمانڈ دیا گیا،شہباز گل کے وکیل نے اس موقع پر فاضل جج سے کہا آپ عرض کر دیں کہ جسمانی ریمانڈ کیوں دیا گیا،جسٹس مظاہر علی اکبر نے اس موقع پر ریمارکس میں کہا کہ عرض کروں آپ کیا بات کر رہے ہیں جج سے ایسے بات کرتے ہیں، شہباز گل نے تقریر نہیں کی بلکہ ٹی وی پر انٹرویو دیا تھا،آپ نے کیس کی تیاری ہی نہیں کی،آپکو جسمانی ریمانڈ دینے کے طریقہ کار اور مقصد کا ہی نہیں پتا،کیا آپ کو پتہ ہے اس مقدمے میں ملزم سے کیا چیز ریکور کرنا تھی،کیا پولیس نے شہباز گل سے زبان ریکور کرنی تھی جس سے وہ بولا تھا؟شہباز گل سے جو ریکوری کی گئی اس کا کیس سے کوئی تعلق ہی نہیں،تشدد کیخلاف شہباز گل کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنا ہوگا،کیا آپ نے تشدد کیخلاف متعلقہ فورم سے رجوع کیا؟

شہباز گل کو متعلقہ فورم پر درخواست دائر کرنے سے کس نے روکا ہے؟جسٹس جمال خان مندوخیل نے ایک موقع پر سوال اٹھایا کہ کیا پی ٹی آئی حکومت میں کسی پر پولیس نے تشدد نہیں کیا؟ شہباز گل کے وکیل نے اپنے الفاظ واپس لیتے ہوئے موقف اپنایا کہ پولیس تشدد کے واقعات کم ہی سامنے آتے ہیں،ملکی تاریخ کا سب سے متنازع ریمانڈ شہباز گل کا دیا گیا،جج نے آرڈر میں لکھا کہ

شہباز گل کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اس موقع پر پوچھا کیا جج صاحب تشدد کے کیس میں بطور گواہ بھی پیش ہونگے؟مجسٹریٹ قیدی کے حقوق کا ضامن ہوتا ہے آپکو اتنا بھی علم نہیں،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے شہباز گل کے وکیل سے پوچھا کیا ضابطہ فوجداری کا اطلاق

سپریم کورٹ پر ہوتا ہے؟ جس پر وکیل سلمان صفدر نے ہاں میں جواب دیا۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اس موقع پر کہا ماشاء اللہ وکیل صاحب،سپریم کورٹ پر ضابطہ فوجداری کا اطلاق نہیں ہوتا۔ عدالت نے بعد ازاں تفتیشی افسر کو ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے معاملہ کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…