بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

سرتاج عزیز کو فری ہینڈ،بھارتی ٹی وی پر ہی بھارتی دعوﺅں کی دھجیاں اڑادیں

datetime 24  اگست‬‮  2015 |

نئی دہلی(نیوزڈیسک) پاکستان او ربھارت کے درمیان قومی سلامتی مشیروں کی سطح مذاکرات بھارت کی طرف سے سبوتاژ کئے جانے کے باوجود پاکستان نے ڈی جی رینجرز اور ڈی جی بی ایس ایف کی ملاقات کے لئے چھ ستمبر کی تاریخ پر آمادگی ظاہر کر دی ہے جبکہ زیرِ اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی اور امورِ خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے اور اب پاکستان بھارت سے مذاکرات کی درخواست نہیں کرے گا،پاکستان کی حکومت او رفوج کا موقف یکساں ہے، پوری قوم متفق ہے کہ مسئلہ کشمیر کے بغیر بھارت سے بات نہیں ہو سکتی،بھارت سپر پاور بننے کی کوشش نہ کرے، وہ کوئی ثبوت نہیںدیتا صرف میڈیا میں الزام تراشی کرتا ہے۔بھارتی ٹی وی کو سی این این آئی بی این کو دیئے گئے انٹرویو میں سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ کشمیر پر عوام، حکومت اور فوج کا یکساں مو ¿قف ہے اور مستقبل کے تمام مذاکراتی ایجنڈوں میں مسئلہ کشمیر شامل رہے گا جب کہ پاکستان اب بھارت سے مذاکرات کی درخواست نہیں کرے گا تاہم بھارت نے درخواست کی تو اس پر غور کریں گے۔سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں جواقوامِ متحدہ میں پیش کیے جائیں گے جب کہ بھارت نے داو ¿د ابراہیم سے متعلق کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے اور اس حوالے سے صرف میڈیا پر پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت خطے میں سپرپاور جیسا رویہ اختیار کررہا ہے اور پاکستان پر اپنا ایجنڈا تھوپنا اوفا میں ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔سرتاج عزیز نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ فوج بھارت سے مذاکرات نہیں چاہتی اور کہا کہ پاک فوج اورسیاسی قیادت میں کوئی اختلاف نہیں،جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے تو اس پر پوری قوم متحدہے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ آئندہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر قومی سلامتی مشیروں کی ملاقات کے بارے میں ہم کوئی تجویز بھارت کو نہیں دیں گے، اگر بھارت تجویز دے گا تو اس پر غور کریں گے۔سرتاج عزیز نے کہا کہ اگر بھارتی ہم منصب سے ملاقات کی اجازت نہ بھی دی گئی تو پھر بھی وہ بھارتی ایجنسی را کی پاکستان میں مداخلت کے حوالے سے ثبوتوں پرمشتمل دستاویز انہیں ضرور پیش کروں گا۔انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ قومی سلامتی مشیروں کی ملاقات منسوخ ہونے کے باوجود ڈی جی ایم اوز، ڈائریکٹر جنرل بی ایس ایف اورڈی جی پاکستان رینجرز کی سطح پر ملاقاتیں ہوتی رہیںگی۔چھ ستمبر کو سیکورٹی فورسز کی ملاقات ہوگی،جس کے لئے ایجنڈا پہلے ہی تیار ہو چکا ہے جبکہ ڈی جی ایم اوز کا ہفتہ وار رابطہ ہو تاہے وہ جب چاہیں ملاقات کر سکتے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارت نے داﺅد ابراہیم کی پاکستان میں موجودگی یا پاکستان کے گورداسپور واقعہ میں ملوث ہونے کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں دیا۔اگر وہ کوئی ثبوت دیں گے تو ہم کارروائی کریں گے،بھارت ہمیشہ کوئی ثبوت دیئے بغیر میڈیا میں ہی پاکستان پر الزام تراشی کرتا رہتا ہے،ان دونوں معاملات پر میرے دو سال میں بھارت نے کوئی ثبوت نہیں دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…