جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

مداخلت پنڈی سے ہورہی ہے یا پشاور سے؟ صحافی کے سوال پر مولانا فضل الرحمن کازبردست جواب

datetime 25  جولائی  2022 |

ڈیرہ اسماعیل خان ، اسلام آباد( آن لائن، مانیٹرنگ ڈیسک )جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ قومی امور میں نرم یا سخت مداخلت ہرگز قبول نہیں کریں گے،وہ ڈیرہ اسماعیل خان میں صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے ،ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی سے بلیک میل ہوں گے۔نہ دباؤ میں آئیں گے اور آئین

کے مطابق تمام فیصلے پارلیمنٹ میں طے کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت آئی پارلیمانی اور انتظامی امور میں مداخلت شروع ہو گئی۔ یہ تماشہ بند ہونا چاہیے کیونکہ اسی تجاوز سے بحران پیدا ہوتے ہیں اور پھر جب ایسی صورت حال ہو تو بحران پیدا کرنے والے ادارے خود ہی علاج کے لیے آجاتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ادارے اپنے دائرہ اختیار کی حدود سے تجاوز نہ کریں اور اگر ملک کی سلامتی عزیز ہے تو ادارے اپنی حدود میں رہیں۔ قومی امور میں نرم یا سخت مداخلت کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جس وقت عمران خان کی حکومت تھی تو عدالتیں اور مقتدرہ حلقوں نے اْس کو مکمل اور غیر مشروط حمایت دی۔ عمران خان کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے اور حکومت آئین و قانون کے مطابق پی ٹی آئی کے دور حکومت کی کرپشن کی تحقیقات کرے۔علاوہ ازیں پریس کانفرنس کے دوران مولانا فضل الرحمان کے اس موقف پر کہ ریاست کمزور ہونے کی وجہ بیرونی دشمن نہیں بلکہ ہمارے اپنے اداروں کی دوسرے اداروں میں مداخلت اور سیاست کی وجہ ہے۔ ایک اخبار نویس نے ان سے استفسار کیا کہ مولانا صاحب دوسرے اداروں میں مداخلت راولپنڈی سے ہورہی ہے یا پشاور سے جس پر مولانا ایک لمحے کیلئے خاموش ہوئے اور پھر انہوں نے زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ آپ کا سوال بہت زبردست ہے اتنا زبردست کہ میں اس کا جواب بھی نہیں دے سکتا لیکن یہ مانتا ہوں کہ آپ نے بہت زبردست سوال کیا ہے۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…