جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

مداخلت پنڈی سے ہورہی ہے یا پشاور سے؟ صحافی کے سوال پر مولانا فضل الرحمن کازبردست جواب

datetime 25  جولائی  2022 |

ڈیرہ اسماعیل خان ، اسلام آباد( آن لائن، مانیٹرنگ ڈیسک )جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ قومی امور میں نرم یا سخت مداخلت ہرگز قبول نہیں کریں گے،وہ ڈیرہ اسماعیل خان میں صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے ،ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی سے بلیک میل ہوں گے۔نہ دباؤ میں آئیں گے اور آئین

کے مطابق تمام فیصلے پارلیمنٹ میں طے کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت آئی پارلیمانی اور انتظامی امور میں مداخلت شروع ہو گئی۔ یہ تماشہ بند ہونا چاہیے کیونکہ اسی تجاوز سے بحران پیدا ہوتے ہیں اور پھر جب ایسی صورت حال ہو تو بحران پیدا کرنے والے ادارے خود ہی علاج کے لیے آجاتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ادارے اپنے دائرہ اختیار کی حدود سے تجاوز نہ کریں اور اگر ملک کی سلامتی عزیز ہے تو ادارے اپنی حدود میں رہیں۔ قومی امور میں نرم یا سخت مداخلت کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جس وقت عمران خان کی حکومت تھی تو عدالتیں اور مقتدرہ حلقوں نے اْس کو مکمل اور غیر مشروط حمایت دی۔ عمران خان کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے اور حکومت آئین و قانون کے مطابق پی ٹی آئی کے دور حکومت کی کرپشن کی تحقیقات کرے۔علاوہ ازیں پریس کانفرنس کے دوران مولانا فضل الرحمان کے اس موقف پر کہ ریاست کمزور ہونے کی وجہ بیرونی دشمن نہیں بلکہ ہمارے اپنے اداروں کی دوسرے اداروں میں مداخلت اور سیاست کی وجہ ہے۔ ایک اخبار نویس نے ان سے استفسار کیا کہ مولانا صاحب دوسرے اداروں میں مداخلت راولپنڈی سے ہورہی ہے یا پشاور سے جس پر مولانا ایک لمحے کیلئے خاموش ہوئے اور پھر انہوں نے زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ آپ کا سوال بہت زبردست ہے اتنا زبردست کہ میں اس کا جواب بھی نہیں دے سکتا لیکن یہ مانتا ہوں کہ آپ نے بہت زبردست سوال کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…