بدھ‬‮ ، 21 اکتوبر‬‮ 2026 

وفاقی و صوبائی وزرا، بیوروکریسی کو مفت پٹرول و یوٹیلٹیز کی فراہمی فورا بند کی جائے، بڑا مطالبہ کر دیا گیا

datetime 1  جولائی  2022 |

لاہور (این این آئی)پنجاب ڈائیز اینڈ کیمیکلز مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین خواجہ خاور رشید نے کہاہے کہ حکومت کی طرف سے اپنے شاہی اخراجات پورے کرنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل بھاری اضافے انڈسٹری کوتباہ اور عوام الناس کو بدحال کردیں گے،

بزنس کمیونٹی یہ سمجھنے میں ناکام ہے کہ وفاقی و صوبائی وزرا اور بیوروکریٹس کو مفت تیل اور دیگر یوٹیلٹیز کی فراہمی بند کیوں نہیں کی جاتی ، حکومتی اقدامات کی وجہ سے ایک دن میں دو دو ہزار پوائنٹس کی کمی کے ساتھ سٹاک مارکیٹ کریش ہوکر انویسٹرز کو خوفزدہ کررہی ہے لیکن حکومت اپنے معاملات درست کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایک بیان میں پنجاب ڈائیز اینڈ کیمیکلز مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر خواجہ خاور رشید نے کہا ہے کہ وفاقی و صوبائی وزراء، اراکین اسمبلی اور بیوروکریٹس کو مفت پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس وغیرہ کی فراہمی بند کردی جائے اور ہدایت کی جائے کہ انہیں جو تنخواہ ملتی ہے وہ اس میں سے ہی پٹرول خریدیں اور یوٹیلٹیز کی ادائیگی کریں۔ جب تک انہیں یہ احساس نہیں ہوگا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا قہر ڈھاتے ہیں اور اس سے بزنس کمیونٹی اور عوام کو کتنا نقصان پہنچتا ہے تب تک حالات درست ہونے کا کوئی چانس نہیں ہے۔ خواجہ خاور رشید نے کہا ہے کہ قلیل عرصے میں ہی حکومت نے پٹرول کی قیمت ڈیڑھ سو روپے فی لٹر سے بڑھاکر 248.74روپے فی لٹر تک پہنچا دی ہے جس سے بزنس کمیونٹی اور عوام بری طرح متاثر ہونگے اور مہنگائی کی ایک ایسی لہر آئے گی جس سے ملک میں بدامنی پھیلے گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ وزیر خزانہ کرنسی کی قدر میں فرق کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں لیکن کرنسی کی قدر کنٹرول کرنا بزنس کمیونٹی اور عوام نہیں بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کچھ دنوں میں ڈالر کی قیمت اور انٹرنیشنل مارکیٹ میں تیل کی قیمت کم ہوئی ہے لیکن حکومت نے ایک مرتبہ پھر اضافے کا بم گرا دیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ چند روز قبل انڈسٹری پر سپر ٹیکس لگا دیا گیا اور اب تیل کی قیمت بڑھاکر انڈسٹری اور ایگریکلچر سیکٹرز کو بدحال کیا جارہا ہے۔ خواجہ خاور رشید نے کہا ہے کہ وفاقی و صوبائی وزرا اراکین اسمبلی اور بیوروکریسی کو حد سے زیادہ مراعات مسائل کی جڑ ہیں۔ بزنس کمیونٹی اور عوام سے قربانیاں مانگنے کے بجائے حکومت اپنے معاملات درست کرے اور بے جا مراعات کا خاتمہ کرے ورنہ آئندہ الیکشن میں لوگ ان کو بری طرح مسترد کردیں گے۔



کالم



زندگی کا ذائقہ


یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…