ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

قانون پر عمل کر کے 15 سالہ لڑکے کے مجرموں کو مثال بنانا ہے، صوبے میں بڑھتے جرائم سے آنکھیں نہیں چرا سکتے‘حمزہ شہباز

datetime 29  جون‬‮  2022 |

لاہور(این این آئی ) وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہاہے کہ قانون پر عمل کر کے 15 سالہ لڑکے کے مجرموں کو مثال بنانا ہے، صوبے میں بڑھتے جرائم سے آنکھیں نہیں چرا سکتے۔لاہور کے علاقے شاہدرہ میں 15 سالہ مقتول لڑکے کے گھر آمد پر وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ صوبے میں بڑھتے جرائم سے آنکھیں نہیں چرا سکتے، تاہم میں جوابات دینے کے لیے تیار ہوں۔

اس موقع پر قتل ہونے والے لڑکے کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ لڑکا صرف 15سال کا تھا، جس کا گلا کاٹا گیا، اس کارروائی میں ملزمان پکڑے گئے ہیں،جن کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ زینب واقعے میں بھی مجرم کو قرار واقعی سزا ملی۔انہوں نے کہا کہ قانون موجود ہے لیکن سزا میں تاخیر ہوتی ہے، جرائم بڑھ رہے ہیں، پولیس کی استعداد میں اضافہ کرنا ہے، اس واقعے کے ملزمان کو مثال بنانا ہے، لاقانونیت کا قلع قمع کرنا ہے، پچھلے پونے 4 سال سے سیف سٹی کیمرے بند پڑے رہے، ہم نے سب سے پہلے ایجنڈا رکھا ہے کہ سیف سٹی کیمرے ٹھیک ہونے چاہیں۔ پولیس افسران کی بھرتیاں پسند اور ناپسند کی بنیاد پر نہیں کریں گے۔ پولیس افسران کی تعیناتی میں پروفیشنل ازم کو سامنے لائیں گے۔اس دوران لاہور ہائی کورٹ میں ہونے والے مقدمے سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ تین ماہ کے دوران پنجاب میں دنیا کا سب سے بڑا آئینی بحران پیدا کیا گیا، گنیز بک ورلڈ ریکارڈ میں آنا چاہیے کہ ہم نے کتنے آئینی بحران کا سامنا کیا، آئینی بحران دینے والے بھی ہمیں سستا آٹا دینے سے نہیں روک سکے، یکم جولائی سے عوام کو مفت دوائیں بھی ملنا شروع ہوجائیں گی۔سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ صدر عمران نیازی کے حکم پر آئین شکنی کے مرتکب ہوئے، 3مہینے میں پنجاب میں آئین کی پامالی کے واقعات ہوئے، نیا پاکستان بنانے والوں نے پرانا پاکستان خراب کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…