بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بچانے کیلئے حکومت کا پہلا فیصلہ مایوس کن نکلا،ڈاکٹرمرتضیٰ مغل

datetime 22  مئی‬‮  2022 |

کراچی (این این آئی)پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ ملک کو بچانے کے لئے حکومت کا پہلا فیصلہ مایوس کن نکلا۔ غیر ضروری درامدات پرمعمولی پابندی عائد کرنے سے موجودہ مخدوش صورتحال پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس سے ماہانہ امپورٹ بل میں بمشکل ایک سے ڈیڑھ فیصدکمی آئے گی جو مذاق ہے۔اس کے مقابلہ میں اگر سرکاری دفاتر میں پانچ دن کام

اور مارکیٹوں کو مغرب سے کچھ قبل بند کرنے کا فیصلہ کیا جاتا تو بہتر رہتا۔ ادھار تیل سے بجلی بنا کر مارکیٹوں کو آدھی رات تک کھلا رکھنا حیران کن اور ملکی مفادات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ جن اشیاء پر پابندی عائد کی گئی ہے انکے مقامی مینوفیکچررز کوموقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمت بڑھانے نہ دی جائے اور نہ ہی ان اشیاء کی سمگلنگ کی اجازت دی جائے۔گزشتہ سال دس ماہ میں 8.7 ارب ڈالر کا تیل درامد کیا گیا تھا جبکہ سال رواں میں اس سے تقریباً دگنا یعنی سترہ ارب ڈالر کا تیل درامد کیا جا چکا ہے جس سے ادائیگیوں کی صورتحال تشویشناک ہو گئی ہے۔اگر آئی ایم ایف سے قرضہ مل بھی جائے تو ملک کو اس وقت تک دیوالیہ ہونے سے بچانا مشکل ہے جب تک درامدات پر بھرپور پابندی عائد نہ کی جائے اور توانائی پر سبسڈی ختم کی جائے۔ملک کو بچانے کے لئے مالیاتی ایمرجنسی کا نفاذ، پٹرول کی قیمت میں تیس سے پچاس روپے فی لیٹر فوری اضافہ، کارپوریٹ سیکٹر کا آٹھ سو ارب روپے کاٹیکس استثنیٰ ختم،زرعی آمدنی پر کم از کم ایک سو ارب روپے کا ٹیکس، بیس ارب روپے کی آمدن کے لئے بڑی گاڑیوں پر پانچ لاکھ کا خصوصی ایمرجنسی ٹیکس ، آٹھ سو مربع گز سے بڑے گھروں کے لئے بجلی کا ٹیرف دگنا، اراضی الاٹمنٹ پر پابندی، ناکام سرکاری کمپنیوں کی فوری فروخت اور غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی

اورغیر ضروری اداروں کو بند کیا جائے۔اس وقت مرکزی حکومت میں مختلف وزارتوں کے ماتحت بیالیس ڈویژن کام کر رہے ہیں جن میں قومی ہم آہنگی، قومی ضابطہ، قومی ورثہ کے ڈویژن شامل ہیں جن کے کام کا کسی کو کچھ پتہ نہیں اور انھیں قائم رکھنا غریب ملک سے ظلم ہے۔انھوں نے کہا کہ مرکزی بینک کے گورنر چار مئی کو رخصت ہو گئے تھے

مگر موجودہ پریشان کن حالات میں بھی انکی جگہ کسی مستقبل گورنر کا تقرر نہیں کیا گیا ہے جس سے سرمایہ کاروں کی پریشانی بڑھ رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ توانائی پر سبسڈی ختم کئے بغیر صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی جس کے لئے حکومت مقتدر قوتوں کے اشارے کی منتظر ہے۔اگر ایسا نہ ہواتو موجودہ حکومت کے پاس اقتدار چھوڑنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچے گا جس سے ملک سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے دلدل میں مزید دھنس جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…