بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

وزیر اعظم سے مشاہد اللہ کی ملاقات،استعفیٰ منظور کر لیا

datetime 17  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(آن لائن) سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ائی جنرل ظہیر الاسلام کیخلاف متنازعہ انٹرویو پر وزیر اعظم نواز شریف نے وزیر ماحولیاتی تبدیلی و سینیٹرمشاہد اللہ خان کااستعفیٰ منظور کر لیا ہے،ذرائع بتایا کہ وزیر اعظم نواز شریف سے سینیٹر مشاہد اللہ نے وزیر اعظم ہاوس میں ملاقات کی ہے اور وفاقی وزیر نے دوران بیرون ملک قومی سلامتی کے ادارے کے سابق چیف سے متعلق انٹرویو سے متعلق وضاحت پیش کی ہے ،ذرائع کے مطابق مشاہد اللہ خان نے اپنی وضاحت میں وزیر اعظم نواز شریف کے سامنے برطانوی نشرریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو کو تسلیم کیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے یہ انٹرویو دیا ہے مگر یہ بات انہیں کسی ذرائع نے نہیں بتائی بلکہ سنی سنائی بات ہے ،میرے انٹرویو کا مقصد ملک کے کسی ادارے کی تضحیک کرنا ہرگز نہیں تھا ،ماضی میں ایسے الزامات دیگر وزراءکی طرف سے بھی لگائے گئے ہیں تاہم ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ، وضاحت پیش کرنے کے بعد مشاہد اللہ نے اپنا تحریر استعفیٰ وزیر اعظم کے سامنے پیش کیا ہے،ذرائع نے بتایا کہ متنازع انٹرویو پر وزیر اعظم نواز شریف نے مشاہد اللہ انتہائی ناراضگی کا اظہار کیا اور اس غیر ذمہ دارانہ اقدامات پر انکا استعفیٰ منظور کر لیا ، وزیر اعظم نے کہا کہ پارٹی میں آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیںلیکن سنی سنائی باتوں پر غیر ملکی خبررساں ادارے کو انٹرویو انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، اس وقت ملک حالت جنگ میں ہے اور مسلح افواج پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہے اور حکومت تمام اداروں کے ساتھ مل کر ملک سے دہشت گردی کے خاتمے،معیشت کی بہتری کیلئے کام کررہی ہے ان حالات میںآپ کے متنازع انٹرویو سے حکومتی اقدامات کو دھچکا لگا ہے ،حکومت اور فوج ایک ہی پیج پر ہیں، ایسے بیانات سے دشمن کے موقف کی تائد کرنے کے مترادف ہے ، وزیر اعظم نے مشاہد اللہ کو ہدایت کی کہ آئندہ ایسے کسی متنازع بیان سے گریز کریں جس سے ملک عدم استحکام شکار ہواور ملکی اداروں کو نقصان پہنچے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز مشاہد اللہ نے دورہ مالدیپ کے دوران برطانوی نشریاتی ادارے کو سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام کے خلاف متنازع انٹرویو دیا تھا جس پر وزیر اعظم نے ان سے وضاحت اور استعفیٰ طلب کیا تھا ،مشاہد اللہ نے دورے کے دوران ہی اپنا استعفی بذریعہ ای میل وزیر اعظم کو ارسال کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…