پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

پی ایس ایل،12 سال سے کم عمر بچوں کو اسٹیڈیم میں داخلے سیروکنے پر تلخ کلامی

datetime 30  جنوری‬‮  2022 |

کراچی (این این آئی)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی بار بار یاد دہانیوں کے باوجود پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچز کو انجوائے کرنے کیلئے مختلف فیملیز 12 سال سے کم عمر بچوں کو اسٹیڈیم لانے کا سلسلہ جاری رکھا۔گزشتہ روز بھی متعدد فیملیز بچوں کو اسٹیڈیم لے کر آئیں اور اس دوران نیشنل اسٹیڈیم کی مرکزی بلڈنگ کے دروازے پر ایک ناخوش گوار واقعہ پیش آیا جب ایک فیملی

سکیورٹی اور ٹکٹ چیکنگ پر مامور اہلکاروں سے الجھ پڑی۔اہلکاروں نے جب ان کے بچے کو کم عمری کی بنیاد پر اسٹیڈیم میں داخل ہونے سے روکا تو وہ جذباتی ہوگئے اور عملے پر الزام عائد کیا کہ وہ بااثر افراد کے بچوں کو جانے دے رہے ہیں جبکہ دیگر بچوں کو روک رہے ہیں۔معاملہ جب زیادہ تلخ ہوا اور گرما گرمی بڑھ گئی تو پی سی بی کے سکیورٹی ڈائریکٹر کرنل آصف اور جی ایم آپریشنز عثمان واہلہ معاملہ سنبھالنے پہنچے۔اس دوران عثمان واہلہ کو بعض فیملیز نے گھیرے بھی رکھا تاہم معاملات قابو میں رہے۔دوسری جانب پی سی بی عملے کی جانب سے اسٹیڈیم میں داخلے سے روکے جانے پر متعدد بچے آبدیدہ نظر آئے تاہم پی سی بی نے ان کے والدین کی درخواست ماننے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے فیصلے کا پابند ہے۔اسی اثناء میں پی ایس ایل ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مالک ندیم عمر جب اپنی ٹیم کا میچ دیکھنے اسٹیڈیم پہنچے تو ایک بچے نے انہیں دلچسپ پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اسے اسٹیڈیم کے اندر لے جانے میں کامیاب رہتے تو وہ کوئٹہ کو سپورٹ کرتے ۔یاد رہے کہ این سی او سی نے 19 جنوری کو پی سی بی کو ہدایات جاری کی تھیں کہ پی ایس ایل کے پہلے مرحلے میں کراچی میں صرف 25 فیصد شائقین کو آنے کی اجازت ہوگی اور ان تمام کا ویکسین کے تمام ڈوز مکمل ہونا لازمی ہوگا جس کی بنا پر 12 سال سے کم عمر بچے داخلے کے اہل نہیں ہوں گے۔اس ہدایات کے باوجود بھی ابتدائی دو روز فیملیز بچوں کو اسٹیڈیم لاتی رہیں جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک بار پھر یاد دہانی کرائی ہے کہ 12 سال سے کم عمر کے بچے اسٹیڈیم میں داخل نہیں ہوسکتے۔تمام صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے پی سی بی کے جی ایم آپریشنز عثمان واہلہ نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ این سی او سی کی ہدایت کا پابند ہے، پی سی بی دوبارہ این سی او سی سے بات کرے گا مگر لوگوں کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ فیصلہ عوام کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جن بچوں پر شک تھا ان کی ویکسی نیشن کا ریکارڈ چیک کیا گیا ہے اور اس کے بعد ہی انہیں اسٹیڈیم میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…