اسلام آباد(نیوز ڈیسک) محکمہ داخلہ پنجاب نے قصور میں بچوں کی زیادتی کے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کے لئے چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ کو خط لکھ دیا۔نجی ٹی ویکے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو لکھا گیا خط رجسٹرار کو موصول ہوگیا جس میں استدعا کی گئی ہے کہ قصور واقعہ کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور انکوائری کے لئے سیشن ججز کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا جائے۔دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے ایوان میں قصور واقعات کے خلاف توجہ دلاو¿ نوٹس جمع کرادیا جس میں کہا گیا ہے کہ 280 بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد ویڈیو بنائی گئیں اور والدین کو بلیک میل کیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف وضاحت کریں کہ اتنے بڑے جرم سے پولیس اور انتظامیہ کیوں لاعلم رہی اور گرفتار ملزموں سے تفتیش کے بعد تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے محکمہ داخلہ پنجاب کو قصور واقعے پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لئے درخواست لکھنے کا حکم دیا تھا۔
قصور واقعہ؛ محکمہ داخلہ پنجاب کا چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو جوڈیشل کمیشن کے لئے خط
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)
-
پیٹرول سبسڈی لینے والوں کےلیےخوشخبری، وزیراعظم کا اہم اعلان
-
تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
طالبہ لائبہ کا خودکشی سے قبل والد کیلیے ماموں کے موبائل پر بھیجا گیا آخری پیغام سامنے آگیا
-
طالبہ لائبہ سے فراڈ کرنے والے ملزم کی ابتدائی شناخت سامنے آگئی
-
ناناپاٹیکر کی موت کی وجہ کیا بنی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نئے انکشافات سامنے آگئے
-
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی گرفتار
-
گھر بیٹھے شناختی کارڈ پر تصویر اور مستقل پتہ تبدیل کروانے کا طریقہ
-
سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لیے بڑی سہولت متعارف
-
معروف اینکر اقرار الحسن کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا
-
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج ایک ساتھ لگانے کا فیصلہ
-
لائبہ اعجاز کو اعلیٰ تعلیم کا جھانسہ دینے والا گینگ گرفتار،نعمان، فاطمہ سرور اور عائزہ شامل
-
’ڈئیر پرائم منسٹر امبانی‘ ایلون مسک کے بیان نے بھارتی سیاست میں ہلچل مچا دی



















































