جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

سندھ میں ہڑتال: رینجرز کی یقین دہانی پر کال واپس

datetime 10  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ رابطہ کمیٹی نے ڈی جی رینجرز کی جانب سے متحدہ کے کارکن کے قتل کی جو مذمت کی گئی ہے وہ خوش آئند ہے جس کے بعد آج ہڑتال کی کال واپس لے لی گئی ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ نے کارکن کی مبینہ ماورائے عدالت قتل کے خلاف آج یعنی پیر کے روز سندھ بھر میں ہڑتال کااعلان کیا تھا جبکہ رینجرز کا کہنا تھا کہ قتل قابل مذمت ہے لیکن کسی کو زبردستی دکانیں بند کرانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ایم کیو ایم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رابطہ کمیٹی کا اجلاس اتوار کو رات گئے ہوا جس میں ڈی جی رینجرز کی جانب سے متحدہ کے کارکن کے قتل کے بارے میں جاری کیے جانے والے بیان پرغور کیاگیا۔بیان میں کہاگیا کہ ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبرکی جانب سے محمدہاشم کے قتل کی جومذمت کی گئی ہے وہ خوش آئندہے۔اجلاس میں ڈی جی رینجرز کی جانب سے کرائی جانے والی اس یقین دہانی پر بھی غورکیاگیاکہ محمدہاشم کے قتل کی تحقیقات کرائی جائے گی اور محمد ہاشم کے قاتلوں کوگرفتارکیا جائے گا۔رابطہ کمیٹی نے ڈی جی رینجرز کی اس یقین دہانی کوخوش آئندقراردیا اور 10 اگست کی ہڑتال کے فیصلے کوواپس لے لیا ہے۔اس سے قبل ایم کیو ایم کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ محمدہاشم لیاقت آباد کا کارکن تھا جو 6 مئی کی شب نائن زیرو سے لیاقت آباد میں اپنے مکان جارہا تھا کہ راستے سے اس کو رینجرز نے گرفتار کرلیا جس کے بعد سے وہ لاپتہ تھا۔ایم کیو ایم کے مطابق محمدہاشم کے اہل خانہ نے عدالت سے رجوع کیا اوران کی بازیابی کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی جس پر 28 جولائی کو عدالت کے حکم پر محمد ہاشم کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ تین ماہ بعد اتوار کو پولیس کے ذریعے محمد ہاشم کے اہل خانہ کو یہ اطلاع ملی کہ محمد ہاشم کی لاش جامشورو سے ملی ہے جس کو ایدھی فانڈیشن دفنا چکی ہے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…