پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

سندھ میں ہڑتال: رینجرز کی یقین دہانی پر کال واپس

datetime 10  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ رابطہ کمیٹی نے ڈی جی رینجرز کی جانب سے متحدہ کے کارکن کے قتل کی جو مذمت کی گئی ہے وہ خوش آئند ہے جس کے بعد آج ہڑتال کی کال واپس لے لی گئی ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ نے کارکن کی مبینہ ماورائے عدالت قتل کے خلاف آج یعنی پیر کے روز سندھ بھر میں ہڑتال کااعلان کیا تھا جبکہ رینجرز کا کہنا تھا کہ قتل قابل مذمت ہے لیکن کسی کو زبردستی دکانیں بند کرانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ایم کیو ایم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رابطہ کمیٹی کا اجلاس اتوار کو رات گئے ہوا جس میں ڈی جی رینجرز کی جانب سے متحدہ کے کارکن کے قتل کے بارے میں جاری کیے جانے والے بیان پرغور کیاگیا۔بیان میں کہاگیا کہ ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبرکی جانب سے محمدہاشم کے قتل کی جومذمت کی گئی ہے وہ خوش آئندہے۔اجلاس میں ڈی جی رینجرز کی جانب سے کرائی جانے والی اس یقین دہانی پر بھی غورکیاگیاکہ محمدہاشم کے قتل کی تحقیقات کرائی جائے گی اور محمد ہاشم کے قاتلوں کوگرفتارکیا جائے گا۔رابطہ کمیٹی نے ڈی جی رینجرز کی اس یقین دہانی کوخوش آئندقراردیا اور 10 اگست کی ہڑتال کے فیصلے کوواپس لے لیا ہے۔اس سے قبل ایم کیو ایم کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ محمدہاشم لیاقت آباد کا کارکن تھا جو 6 مئی کی شب نائن زیرو سے لیاقت آباد میں اپنے مکان جارہا تھا کہ راستے سے اس کو رینجرز نے گرفتار کرلیا جس کے بعد سے وہ لاپتہ تھا۔ایم کیو ایم کے مطابق محمدہاشم کے اہل خانہ نے عدالت سے رجوع کیا اوران کی بازیابی کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی جس پر 28 جولائی کو عدالت کے حکم پر محمد ہاشم کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ تین ماہ بعد اتوار کو پولیس کے ذریعے محمد ہاشم کے اہل خانہ کو یہ اطلاع ملی کہ محمد ہاشم کی لاش جامشورو سے ملی ہے جس کو ایدھی فانڈیشن دفنا چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…