اسلام آباد /واشنگٹن(این این آئی) قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی بحالی سے افغانستان میں تشدد کی لہر میں کمی آئے گی اسلاام آباد میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ پاکستان طالبان کو مذاکراتی عمل میں دوبارہ شامل ہونے پرراضی کرسکتا ہے اگر طالبان نئے سربراہ کے انتخاب پر اختلافات ختم کر دیں یاد رہے کہ 31جولائی کو ہونے والے افغان حکومت اورطالبان کے درمیان مذاکرات ملا عمر کی وفات کی خبر کی تصدیق کے بعد ملتوی کئے گئے طالبان کے نئے سربراہ ملا اختر منصور کے انتخاب پر کئی طالبان رہنماﺅں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے تاہم اختر منصور کے لوگ کہتے ہیں کہ مرکزی شوریٰ کی اکثریت اور علماءنے اختر منصور کو منتخب کیا تھا سرتاج عزیز نے کہاکہ پاکستان طالبان پر زور دے رہا ہے کہ وہ مذاکرات دوبارہ شروع کریں کیونکہ لڑائی مسائل کا حل نہیں ہے انہوںنے سات جولائی کو پاکستان کی جانب سے افغان طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کو مفید قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ مذاکرات کا دوسرا دور بھی جلد شروع ہو جائیگا اگر طالبان اپنے سربراہ کے انتخاب پر ہونے والے اختلافات دور کریں ابھی یہ معلوم نہیں کہ طالبان کی اکثریت کس کے ساتھ ہے افغانستان میں حالیہ حملوں کے بعد کچھ افغان عناصر کی جانب سے پاکستان پر الزامات سے متعلق سوال پر سرتاج عزیز نے کہاکہ الزامات کو انتہائی مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہاکہ افغانستان میں مختلف قسم کی شدت پسند تنظیمیں فعال ہیں اور یہ معلوم نہیں کہ اس خونریزی میں کس کا ہاتھ ہے انہوںنے کہاکہ پاکستان نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور افغان حکومت کے ساتھ سرحد پر نگرانی زیادہ موثر بنانے کےلئے تعاون کیا جارہا ہے وائس آف امریکہ نے سکیورٹی اہلکاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ مذاکراتی عمل کو ناکام بنانے کے اقدامات کے باوجود دونوں ممالک کی قیادت امن عمل کو آگے بڑھانے کےلئے پر عزم ہے سکیورٹی اہلکاروں کاکہنا ہے کہ پاکستان مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کےلئے مخلصانہ کوششیں کررہا ہے پاکستانی سکیورٹی حکام نے کہاکہ ملا عمر کی وفات کی تصدیق کے بعد صدر اشرف غنی اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطے مثبت تھے اوردونوں رہنماﺅں نے مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا دریں اثناءنیٹو افواج کے اعلیٰ کمانڈر جنرل جان کیمپ بل نے واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے مذاکراتی عمل میں پاکستانی کر دار کو سراہا انہوںنے کہاکہ پاکستانی فوج کے سربراہ اور افغان رہنما علاقے میں امن کے فروغ کےلئے دہشتگردی کے خلاف تعاون اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کر نے کےلئے پر عزم ہیں ۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیفٹننٹ کرنل کی اہلیہ کا سربراہ شعبہ کے ساتھ ایشو چل رہا تھا، کیس ثابت ہونے پر معطل کردیا گیا اسی با...
-
نئے کرنسی نوٹ کب تک آئیں گے؟ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بتا دیا
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کےلئے پیر تا جمعہ نئے اوقات کار مقرر
-
ہونڈا CD 70 ایکسچینج آفر، پرانی بائیک دیں اور نئی لے جائیں
-
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
-
حنا جاوید کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات
-
ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں آج پھر بڑااضافہ
-
ایپل کی جانب سے آئی فون 18 سیریز کی قیمتوں میں کتنا اضافہ کیا جا رہا ہے؟
-
ایکنک نے لاہور ، بہاولنگر موٹروے کی منظوری دیدی
-
ہونڈا کی ایکسچینج سہولت، پرانی سی ڈی 70 دے کر نئی موٹر سائیکل حاصل کرنے کا موقع
-
بارشوں کا نیا اسپیل 27 اگست سے آنےکو تیار ، محکمہ موسمیات کی پیشگوئی آگئی
-
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں کمی
-
حنا جاوید قتل کیس،قاتل شوہر کو جج نہ کرنے کی فرضی مثال، ملزم کا پرانا لیکچر وائرل
-
اسلام آباد کی یونیورسٹی میں ہنگامہ آرائی اور فوجی افسر کی فائرنگ کا واقعہ، عسکری ادارے نے ملوث فوج...



















































