بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

کھاد نہ ملنے کے باعث گندم کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ

datetime 17  جنوری‬‮  2022 |

سکھر(این این آئی) گندم کی بوائی کے وقت کھاد نا ملنے کے باعث فصل کی پیداوار کم ہونے اور گندم کے بحران سمیت ملکی معیشت کو بھی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔کاشتکاروں کے مطابق فصل کو ہم آخری کھاد نہیں ڈالیں گے تو گندم کا سکا چھوٹا رہ جائے گا اور کمزور ہو جائیگا،

اس کا دانہ بہت کم باریک بنے گا، اگر اس کو بروقت کھاد مل جاتی تو سکا بھی لمبا ہو جاتا اور 15 سے 20 ایکڑ کی اس ایوریج بڑھ جاتی۔سکھر کے نواحی علاقے سلطان پور کے مقامی کاشتکار گندم کی بوائی کے وقت قلت اور بلیک میں فروخت کی وجہ سے کھاد کی عدم فراہمی کے باعث فصل کی کم پیدوار سے پریشان ہیں۔کاشتکاروں کے مطابق گندم کی تیار فصل کو آخری کھاد کی ضرورت ہے لیکن مارکیٹ میں کھاد دستیاب ہی نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ کھاد بلیک میں مل رہی ہے، جو اس کا سرکاری ریٹ ہے وہ ہے تو 1800 روپے لیکن ہمیں 3000 روپے تک بلیک میں مل رہی ہے۔مقامی کاشتکاروں کے مطابق ایگری کلچرل آفیسر، مختیار کار اور جو ہمارے بڑے ہیں ان کے پاس بھی گئے لیکن ہمیں جواب دیا گیا کہ ہمارے پاس کھاد نہیں ہے۔کاشتکاروں کے مطابق ہزار ایکڑ والے کاشتکاروں کو تو کھاد مل جاتی ہے لیکن چھوٹے کسانوں کو نہیں مل رہی۔انہوںنے کہاکہ کھاد نہ ملنے کی وجہ سے گندم کی پیداور کم ہو گی اور آنے والے دنوں میں خوراک کا بحران پیدا ہو گا۔کھاد کے بحران سے ناصرف کاشتکار ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں بلکہ مستقبل قریب میں خوراک کی قلت کے ساتھ مہنگائی کا بھی امکان ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ حکام سنجیدگی سے نوٹس لے کر کھاد کی فراہمی یقینی بنا کر کمزور معیشت کو سنبھلنے کا موقع دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…