ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

40سال غریبی میں زندگی بسر کرنیوالی پاکستانی خاتون اچانک مالدار ہوگئی

datetime 13  جنوری‬‮  2022 |

عمان(این این آئی)طویل مدت غریبی میں بسر کرنے کے بعد اردن کی رہائشی پاکستانی نژاد عذرا قدسیہ کفایت اللہ خان نامی خاتون پر قسمت کی دیوی مہربان ہوگئی۔ خاتون کو علم ہی نہیں تھا کہ ان کے اکاؤنٹ میں 45ہزار دینار پہلے سے موجود ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون غربت سے تنگ آکر مالی مدد کے لیے سرکاری ادارے پہنچیں

لیکن وہاں ان کے لیے ایک اور اچھی خبر پہلے سے موجود تھی۔ عذرا کو سرکاری ادارے پہنچ کر معلوم ہوا کہ ان کے اکاؤنٹ میں تو پہلے سے ہی اچھی خاصی رقم موجود ہے لیکن یہ رقم آئی کہاں سے؟ عذار قدسیہ لاعلم تھیں کہ ان کے اکاؤنٹ میں 2008 سے پنشن کی رقم جمع ہو رہی ہے اور اب ان کے اکاؤنٹ میں خطیر رقم موجود ہے۔پاکستانی نژاد خاتون کو اکاؤنٹ میں پیسوں کی موجودگی کا علم ہوا تو وہ دنگ رہ گئیں اور ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔عذرا قدسیہ 70 کی دہائی میں پاکستان سے اردن ملازمت کے لیے آئی تھیں جہاں وہ اسپتالوں میں دائی کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں اور ریٹائر ہونے کے بعد بھی رضاکارانہ طور پر یہ خدمات انجام دیتی رہیں۔اب ضعیف العمری کے باعث ان کے لیے کام کرنا دشوار ہوا تو انہوں نے حکومت کو اپنے حالات بتاتے ہوئے مالی امداد اور علاج معالجے کی درخواست کی۔بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ سال 2008 سے ان کے اکاؤنٹ میں باقاعدگی کے ساتھ ہر ماہ پنشن آ رہی ہے۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ریٹائر ہونے کے بعد اردن کی حکومت نے عذرا کو ان کی 50 سالہ خدمات کے اعتراف میں شہریت دے دی تھی۔ عذرا قدسیہ کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کی پنشن ہر مہینے بینک اکاؤنٹ میں آ رہی ہے کیونکہ انہیں اردن کے پنشن سسٹم کا علم نہیں تھا۔اب خاتون کو جب یہ معلوم ہوا کہ اب کے اکانٹ میں 45 ہزار اردنی دینار موجود ہیں تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…