منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

فارن فنڈنگ رپورٹ ہمارے موقف کی تائید،عمران خان عالمی طاقتوں کا مہرہ ہیں ،مولانا فضل الرحمن

datetime 5  جنوری‬‮  2022 |

اسلام آباد ( آن لائن) جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ رپورٹ نے ہارے موقف کو درست ثابت کر دیا ہے کہ عمران خان عالمی طاقتوں کے کا مہرہ ہیں،قوم کو بتایا جائے مغرب و مشرق کے کن افراد اور کن تنظیموں نے پی ٹی آئی کو مالی مدد دیکر کون کون سے مقاصد حاصل کئے، ملکی اداروں کو قومی سلامتی کو درپیش خطرات بارے

سنجیدگی سے سوچنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جے یو آئی کے مرکزی رہنما اسلم غوری ، مولانا امجد خان ، مولانا راشد محمود سومرو اور مفتی ابرار احمد خان سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کی سکیورٹنی کمیٹی کی رپوٹ ہم سب کے لئے چشم کشا ہے،عمران خان نے الیکشن کمیشن سے ان 53 اکاونٹس کو چھپایا جن میں بیرون ممالک سے کئی مشتبہ اداروں اور افراد کی طرف سے پی ٹی آئی کو فنڈنگ کی جا رہی تھی۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ رپورٹ میں اس فنڈنگ میں خردبرد کے اشارے بھی انتہائی خطرناک رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جن غیرملکی قوتوں نے پی ٹی آئی کو بھاری مالی معاونت دی عمران اب انہی قوتوں کے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہے۔پہلے اس اہم مقدمہ کو نمٹانے میں غیرمعمولی تاخیر نے کئی شکوک و شبہات پیدا کئے، اب گہرائی میں کی گئی تحقیق کے بعد ثابت ہو گیا کہ پی ٹی آئی کے اساسی رکن اکبر ایس بابر کے الزامات درست تھے۔مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ ہم پی ٹی آئی کے اکبر ایس بابر کی حب الوطنی اور ثابت قدمی کے معترف ہیں جنہوں نے اپنے ملک سے وفاداری اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کی درست رہنمائی کا فریضہ نہایت دلیری اور جانفشانی سے ادا کیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وقت نے ہمارے موقف کو درست ثابت کر دیا کہ عمران خان عالمی طاقتوں کا مہرہ ہے۔ ان کو ملکی سلامتی اور مسلم قوم کے مفادات سے کوئی سروکار نہیں،ان کا ساڑھے تین سالہ دور اس قوم کے مستقبل پہ تباہ کن اثرات ڈال گیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اب سوال یہ ہے کہ ملکی اداروں کو بھی قومی سلامتی کو درپیش خطرات بارے سنجیدگی سے سوچنا چاہئے۔قوم کو بتایا جائے مغرب و مشرق کے کن افراد اور کن تنظیموں نے پی ٹی آئی کو مالی مدد دیکر کون کون سے مقاصد حاصل کئے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…