جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

آسٹریلیا کا زیر زمین پراسرار غار نما قصبہ

datetime 7  اگست‬‮  2015 |

ضرورت ایجاد کی ماں ہے ، حضرت انسان نے اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سہولت کی خاطر نت نئی ایجادات کیں ، ان میں سے کئی ایسی ہیں جنہیں منفرد حیثیت حاصل ہے ، جنوبی آسٹریلیا کی سٹورٹ ہائی وے پر واقع ’کوپر پیڈی ‘ نامی زیر زمینقصبہ اپنی منفرد طرز تعمیر کی وجہ سے مسحور کن حیثیت رکھتا ہے ، زمین کے اندر بنی غاروں اور چٹانوں پر مشتمل اس قصبہ میں تقریباً 2000کے قریب افراد رہائش پذیر ہیں ، اس علاقے میں درجہ حرارت 104فارن ہائیٹ سے بھی تجاوز کر جاتاہے جس کی وجہ سے لوگوں کو سخت گرمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، سخت دھوپ اور تپش سے بچنے کیلئے یہاں لوگوں نے زیر زمین سرنگوں اور غاروں میں گھر سمیت ریستوران ، بک سٹور ز ، چرچ تعمیر کررکھے ہیں ، تمام گھر جدید سہولیات بیڈرومز ،کچن ، باتھ رومز ، الماریوں وغیرہ سے آراستہ کیے ہیں ، کوپر پیڈی نامی اس سحر انگیز شہر میں گھروں کی طرز تعمیر اس طرح سے کی گئی ہے کہ یہ ہوادار بھی ہیں جہاں گھٹن کا احساس نہیں ہوتا ، چرچ کی عمارت باہر سے بھی نظر آتی ہے لیکن دیکھنے والوں کو یہ پتا نہیں چل پاتا کہ اس کا ایک بڑا حصہ زیرمین ہے ، صحت مندانہ سرگرمیوں کیلئے یہاں ایک گالف کلب بھی تعمیر کیا گیا ہے جومکمل طور پر گھاس کے بغیر ہے ، آسٹریلیوی شہر ایڈلے سے یہاں تک آمدو رفت کیلئے کوچز سروس بھی مہیا کی گئی ہے تاکہ آمد و رفت میں آسانی رہے ، کوپر ہیڈی سیاحت کے شوقین افراد کیلئے ایک پرکشش جگہ ہے ، منفرد طرز کی ہوٹلزاور ریستوران سیاحوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتی ہیں ، آسٹریلیا کا یہ قصبہ دودھیا رنگ کے قیمتی پتھر کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے ، کہا جاتا ہے کہ 1915میں یہاں اپنے والد کے ساتھ آئے ایک 14سالہ نوجوان لڑکے نے جب اوپل (دودھیا پتھر) دریافت کیا تو یہاں قیمتی پتھروں کی تلا ش کیلئے لوگوں کی بڑی تعداد امڈ آئی جس کے بعد کان کنی اور پتھروں کو کاٹنے کا سلسہ شروع ہوا ، پتھروں کی تلاش میں آئے لوگوں نے یہاں رہائشیں بھی اختیار کیں لیکن سخت موسم کی شدت ان کیلئے مشکلات کا باعث بننے لگی تو چٹانوں اور گڑھوں کے اندر انہوںنے اپنی زیر زمین رہائشیں تعمیر کرنا شروع کیں ، وقت کے ساتھ ساتھ یہاںجدت آتی گئی اور دوسری ضروریات زندگی کی فراہمی کو بھی ممکن بنا لیا گیا ۔جنگ عظیم اول سے لوٹ کر یہاں اوپل نامی قیمتی پتھر کی تلاش کرنے والے فوجیوں نے سب سے یہاں زیرزمین رہائش گاہیں تعمیر کیں تھی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…