ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

اوگراکے رکن کی تقرری پر سوال اٹھ گیا ادارے کےغیر فعال ہونے کا خدشہ

datetime 4  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے رکن کی تقرری پر سوال اٹھنے سے ادارے کے غیر فعال ہونے کا خدشہ پید ا ہوگیا ہے ۔ اوگرا کے رکن کی تقرری پر سوال اٹھنے سے اس کے کورم کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے، جس کی تکمیل ایک سال بعد حال ہی میں ایک رکن کی تقرری کے بعد ہوئی تھی ۔ اوگرا کے ارکان کی تعداد پوری نہ ہونے سے ادارہ غیر فعال ہوجاتاہے۔ جس شخص کو اوگرا کا رکن بنایا گیا تھا اس نے سینئر افسر کے ایک اور عہدے سے استعفیٰ نہیں دیا تھا۔ اوگرا رکن کے طور پر مذکورہ شخص کی تقرری اوگرا آرڈیننس کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے مطابق جوشخص بھی اوگرا کا رکن بننا چاہتاہے، اسے لازمی طور پر اپنے موجودہ عہدے سے مستعفی یا ریٹائر ہونا پڑیگا۔رونامہ جنگ کے نمائندہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ شخص کی بطور سینئر افسر تنخواہ 5لاکھ روپے سے زیادہ ہےجبکہ رکن اوگرا کی تنخواہ ساڑھے چار لاکھ روپے ہے، حیرت انگیز طور پر اس رکن نے 50ہزار روپے ماہانہ کی قربانی دی۔ اوگرا کے سینئر افسران اس پیش رفت پر بہت پریشان ہیں ۔ اوگرا رکن کی اسامی پر تقرری کیلئے بڑے اخبارات میں اشتہار دیا گیا تھا ، جس میں یہ شرط بھی عائد کی گئی تھی کہ اوگرا کا رکن مقرر ہونے کے بعد کامیاب امیدوار کو اپنے موجودہ عہدے سے مستعفی یا ریٹائر ہونا پڑیگا۔ اوگرا کے ایک سینئر افسر کاکہنا ہےکہ مذکورہ رکن اوگرا نے اپنے دوسرے عہدے سے(لیژین بیسڈ) مشروط استعفیٰ دیا ہے ، جس کا مطلب یہ ہےکہ اگر دو سال بعد ان کی اوگرا کی رکنیت میں توسیع نہ گئی تو وہ بطور سینئر افسر اپنی ملازمت جاری رکھیں گے اور ان دو سالوں میں انہیں دوسرے سینئر افسر کے عہدے کی تنخواہ اور مراعات بھی ملتی رہینگی۔ ذرائع کاکہنا ہےکہ اوگرا آرڈیننس کے تحت ایسے استعفے کی اجازت نہیں ہے ، کچھ افسران اس غیر قانونی تقرری کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ اس رکن نے جمعے کو لیژین بیسڈ استعفیٰ اوگرا چیئرمین کو بھیجا ، جنہوں نے اسے کابینہ ڈویژن کو ارسال کردیا ، جس نے اسے منظور کرلیا۔ ذرائع کاکہنا ہےکہ قبل ازیں مجاز اتھارٹی نے ایک شخص کا بطور رکن اوگرا تقرر کیا ، جس نے اوگرا میں شمولیت سے انکار کردیا۔ جس کے بعد سمری میں موجود دوسرے شخص کے نام کی اوگرا کے رکن کے طور پر منظوری دیدی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…