لاہور(آن لائن) پنجاب پولیس نے152 اہلکاروں کو 2005 میں وفاقی حکومت کے تعاون سے شروع کئے گئے ریکارڈ رکھنے والے اور آفس مینجمنٹ سسٹم سے نکالتے ہوئے انہیں اسی طرز کے ایک اور پراجیکٹ میں رپورٹ کرنے کی ہدیات کی ہے جوکہ چھ ماہ قبل پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے شروع کیا تھا ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنز میں منعقد ہونے والی ایک حالیہ میٹنگ میں کیا گیا ہے رپورٹ کے مطابق پولیس ریکارڈ اور آفس میجمنٹ سسٹم کے تحت صوبہ بھر میں پولیس سٹیشن کا ریکارڈ اکٹھا کر کے ان سب کے درمیان آئی جی پنجاب ، کیپٹل سٹی پولیس آفیسر لاہور اور آپریشنز اور انویسٹی گیشن ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کے درمیان تقسیم کیا جاتا تھا میٹنگ میں موجود ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ ڈیٹا کی آٹو مشین اور شیئرنگ اس لئے تاخیر کا شکار ہوا ہے کہ کمپیوٹر پروکیورمنٹ فنڈز ، بیٹریاں ، فیکس مشینیں اور نیٹ ورکنگ مشینیں وقت پر ریلیز نہیں ہو سکیں ۔
پنجاب پولیس نے دہائی قدیم ریکارڈ مینجمنٹ پراجیکٹ ختم کر دیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہب کی جنگ(آخری حصہ)
-
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کا امکان
-
ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند؟ بڑا اعلان سامنے آگیا
-
عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتو ں میں اضافہ
-
سونے کی قیمت میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی کے بعد آج پھر بڑا اضافہ
-
ملک بھر میں طوفانی ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی
-
آبنائے ہرمز کھل گئی
-
ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
-
ایران نے جنگ روکنے کیلئے 6 سٹریٹجک شرائط پیش کردیں
-
چھٹیوں میں اضافے کی خبریں! وزیرتعلیم پنجاب کا اہم بیان آگیا
-
خیبرپختونخوا حکومت نے طورخم بارڈر کھولنے کی منظوری دیدی
-
دوران میچ دل کا دورہ پڑنے سے نوجوان کرکٹر انتقال کر گیا
-
شادی کے خواہشمند افراد کیلئے اہم خبر
-
نمبر پلیٹس سے متعلق سخت کریک ڈاؤن کا اعلان



















































