منگل‬‮ ، 14 اپریل‬‮ 2026 

میری سیاسی جماعت کو اسٹیبلشمنٹ کی آشیر بادد شامل نہیں ہوگی،افتخار محمد چوہدری

datetime 1  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ میری سیاسی جماعت کو اسٹیبلشمنٹ کی آشیرواد شامل نہیں ہوگی۔ میں نے بطور چیف جسٹس ہمیشہ انصاف پر مبنی فیصلے دیئے۔ بلوچستان کے مسائل کو فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہاں لوگوں میں احساس محرومی کو ختم کرنا ہوگا۔ وہ کراچی میں بلوچستان کے بزرگ سیاسی رہنما سردار عطاء اللہ مینگل سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ ملاقات میں دونوں رہنمائوں نے سیاسی صورت حال اور بلوچستان کے معاملات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ میں نے آئین کے مطابق مسائل کے حل کے لئے سوموٹو ایکشن لئے اور تمام فیصلے قانون اور انصاف کے مطابق کئے۔ میرا ریکارڈ گواہ ہے کہ میرے تمام فیصلے آئینی تھے اور میں نے جو اختیارات استعمال کئے وہ بھی آئین کے مطابق تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ بلوچستان کے لوگوں کی احساس محرومی کو ختم کرنا ہوگا۔ بلوچستان کے مسئلے کو فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک سے کرپشن اور لوٹ مار کا خاتمہ ہونا چاہئے اور ملک میں ایماندار اور انصاف پر مبنی نظام قائم ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جو بھی پارٹی بنائوں گا اسے اسٹیبلشمنٹ کی آشیرواد حاصل نہیں ہوگی۔ میں عوام کی جماعت قائم کروں گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری عمران خان سے ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ عمران خان نے مجھ پر جو الزامات عائد کئے وہ ثابت نہیں کرسکے۔ جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ آگیا ہے جس نے عمران خان کے الزامات کو رد کردیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے سردار عطاء اللہ مینگل سے ملاقات میں درخواست کی ہے کہ وہ ملک کی بھلائی کیلئے اپنا کردار ادا کریں اور دوبارہ فعال ہوجائیں۔ اس موقع پر سردار عطاء اللہ مینگل نے کہا کہ بلوچستان میں قتل عام بند ہونا چاہئے۔ وہاں کے لوگوں کا احساس محرومی ختم کرنا ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جب قتل عام بند ہوجائے گا۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہوجائے گا اور بلوچستان کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق ملنا شروع ہوجائیں گے تو بلوچستان کا مسئلہ خود بخود حل ہوجائے گا۔ حکمران بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ نہیں۔ بلوچستان کے مسئلے کے حل کیلئے ضروری ہے کہ وہاں کی عوام کو سنا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کی سب سے بڑی کام یابی


وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…