جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

بلاول بھٹو زر داری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بریکٹ ہوئے جو پیشکش بلاول کو ہوئی وہ ہمیں بھی ہوئیں ہم نے قبول نہیں کی، پیپلز پارٹی ہماری بات مانتی تو حکومت ختم ہو چکی ہوتی، مولانا فضل الرحمان

datetime 9  ستمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پی ڈی ایم ٹوٹنے کا ذمہ دار پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زر داری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بریکٹ ہوئے جو پیشکش بلاول کو ہوئی وہ ہمیں بھی ہوئیں ہم نے قبول نہیں کی، استعفوں کا آپشن پی ڈی ایم کے اعلامیہ میں موجود تھا،

پیپلز پارٹی ہماری بات مانتی تو آج یہ حکومت ختم ہو چکی ہوتی ہے، ہم بہت کچھ جانتے ہیں، بہت کچھ ہمارے نوٹس میں آئے،ہم محاذ نہیں کھولنا چاہتے۔ایک انٹرویومیں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ بلاول بھٹو زر داری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بریکٹ ہوئے جو پیشکش بلاول کو ہوئی وہ ہمیں بھی ہوئیں لیکن ہم نے قبول نہیں کی۔ انہوں نے کسی کا نام لئے بغیر کہاکہ جب آپ میں میر جعفر اٹھیں گے تو کچھ بھی فرق پڑے گا، نام لینے کی ضرورت نہیں لوگ بہت ہوشیار سمجھ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہم نے بلاول ہی کو پی ڈی ایم کہنا ہے تو پھر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں کون کھیل رہا ہے؟، پی ٹی آئی کا بریکٹ کون ہوا ہے؟ ہم وہ سیاست نہیں کرینگے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے اعلامیہ میں استعفوں کا آپشن موجود ہے، اس کا انکار کر دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ جب ہم دونوں اتحادی ہیں جب ملکر کام کرینگے تو اثر ہوگا اور جب ہم تقسیم ہو جائینگے تو اثر اورہو گا۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت ہم ملکر استعفیٰ دیتے تو الیکشن بھی ہو چکے ہوتے اور حکومت بھی جا چکی ہوتی۔انہوں نے کہاکہ جب صورتحال تقسیم ہو گئی ہے تو اس میں اسمبلی کے اندر لوگوں کو باہر نکالنا ہے تو تبدیلی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ہم بہت کچھ جانتے ہیں، بہت کچھ ہمارے نوٹس میں آئے لیکن ہم محاذ نہیں کھولنا چاہتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…