جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ہیلتھ نے وزیراعظم کو ’’ماموں‘‘ بنادیا

datetime 25  جولائی  2015 |

رحیم یارخان ،رکن پور (نیوزڈیسک) ضلعی انتظامیہ نےوزیراعظم کو ’’ماموں‘‘ بنادیا۔ سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم نواز شریف چاچڑاں پہنچے توبریفنگ کے بعد مقامی افراد کو سیلاب متاثرین سمجھ کر خطاب کرکے چلتے بنے ، مقامی ا فراد کی جانب سے ملنے کی کوشش کی گئی توایک گونگا شخص پولیس والوں کے ہتھے چڑھ گیا، ضلعی انتظامیہ وزیر اعظم کو دیکھنے کا شوق رکھنے والے افراد کوسیلاب زدگان بنا کر پیش کرتی ر ہی،وزیر اعظم نے چاچڑاں میں لگے سیلاب زدگان کے کیمپ کا دورہ تو نہ کیا مگرانہیں دیکھنے کے شوقین مقامی افراد کو سیلاب زدگان سمجھ کر وزیراعظم نے پاس آکر خطاب کرڈالا اور چاچڑاں شہر کی سیوریج کے لیے چارکروڑروپے کا اعلان بھی کردیا، وزیر اعظم نے اپنا خطاب ختم کیاتو اسی دوران ایک گونگا شخص جو وزیراعظم کا چاہنے والا تھا نے وزیراعظم کو ملنے کی کوشش کو تو پولیس والوں کے ہتھے چڑھ گیااور پولیس نے اس پر تھپڑ برسائے اور سکیورٹی کے نام پر وزیر اعظم سے دور کرڈالا، بریفنگ کے دوران ضلعی انتظامیہ اپنی کارکردگی کو ظاہر کرنے کے لیے دوسرے بند پر وزیر اعظم کو دیکھنے آنے والے افراد کو کشتیوں میں بٹھا کر سیلاب زدگان پیش کرتے ہوئے دریامیں سیر کراتے رہے جو ایک دو سیلاب زدگان پیسے دے کر اپنی مددآپ کے تحت محفوظ مقام پر پہنچنے کی کوشش کررہے تھے ان کو بھی چھٹی نہ ملی دو سے تین گھنٹے دریا میں گھومتے رہنے کے بعد انہیں کنارےپر اترنے کی اجازت ملی، وزیراعظم کشتیوںمیں سوار افراد کو سیلاب متاثرین سمجھتے رہے ، محکمہ ہیلتھ نے بھی کارکردگی کے نام پر انہیں مانیٹرکے بغیر الٹراساؤنڈ مشین دکھاکر ’’ماموں‘‘ بنادیا، وزیراعظم نے ریلیف کیمپوں کا معائنہ کیاتو میڈیکل کیمپ میں سٹریچر سمیت الٹراساؤنڈ مشین کا پینا فلیکس دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا ،بعدازاں معلوم ہواکہ محکمہ ہیلتھ نے الٹراساؤنڈ کی مشین کے صرف بینرز یا پینا فلیکس آویزاں کیے اور مانیٹر کے بغیر ہی ادھوری مشین رکھ کر کارکردگی دکھاکر وزیراعظم کو ’’ماموں ‘‘ بنادیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…