جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

مسلمان ملک پر فضائی حملے کرنے پر اسرائیل کو روس نے پہلی مرتبہ دھمکی دے ڈالی

datetime 24  جولائی  2021 |

ماسکو (مانیٹرنگ ،این این آئی) شام میں اسرائیلی حملوں کے حوالے سے روس نے اب تک خاموشی اختیار کی ہوئی تھی لیکن روس نے پہلی مرتبہ دھمکی دی ہے کہ اسرائیلی طیاروں کے لئے شام کی فضائی حدود بند کی جا سکتی ہے، روسی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شام کی فوج کے پاس موجود روسی فضائی دفاعی نظاموں نے اسرائیل کے زیادہ تر میزائل مار گرائے۔

دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی قیادت افغانستان کے موجودہ صورتحال کے سیاسی حل کی ضرورت کو سمجھتے ہیں اور سیاسی سمجھوتے کے لیے تیار ہیں۔روسی خبر رساں ادارے تاس اور اے ایف پی کے مطابق روسی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان اور روسی وزارت خارجہ کے ایشیا ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ضمیر کابلو کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ 20 سالوں سے جاری جنگ سے (طالبان) لیڈرشپ اکتا چکی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ موجودہ ڈیڈلاک کا سیاسی حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ میں نے یہ ان کے نہ صرف قول میں بلکہ ان کے ارادوں میں بھی دیکھا جس کا اظہار مختلف شکلوں میں ہوتا ہے کہ وہ (طالبان) سیاسی سمجھوتے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن یہ واضح ہے کہ ان کے نقطہ نظر میں سیاسی سمجھوتے کو معقول طریقے سے ان کے سامنے پیش کیا جائیں۔تاس کے مطابق والدائی ڈسکشن کلب کے ایک آن لائن ڈسکشن کے دورن ضمیر کابلو کا کہنا تھا کہ ’دوسری جانب طالبان پرانے والے نہیں بلکہ ان میں نوجوان جنگجوؤں کی پوری نسل شامل ہوگئی ہے جن کے عزائم بڑے ہیں اور وہ بڑی حد تک ایک پرامن اور آزاد افغانستان جس پر کسی کا قبضہ نہ ہو میں نہیں رہے ہیں۔روسی صدر کے نمائندہ خصوصی کے مطابق طالبان بڑے واضح ہے کہ وہ بیرونی حملہ آوروں سے اپنے مادر وطن کی آزادی اور اسلام کے اقدار کے لیے لڑ رہے ہیں۔

’طالبان کا یہ نوجون اور جوش طبقہ جن کی قیادت فیلڈ کمانڈر کر رہے ہیں، بہت زیادہ شدت پسندانہ ذہنیت کا ہے۔خیال رہے ضمیر کابلو کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ ہفتے افغان طالبان اور کابل حکومت کے درمیان نامکمل مذاکرات کا ایک اور دور ہوا تاکہ رکاوٹوں کا شکار امن عمل کو تیز کیا جاسکیں۔ماسکو

افغانستان کی صورتحال کو بہت باریک بینی سے مانیٹر کر رہا ہے۔ سویت افواج نے 1979 میں افغانستان پر قبضہ کیا تھا اور 10 سالہ جنگ کے دوران روس کے 14 ہزار فوج مارے گئے تھے۔ روس کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ تاجکستان میں ماسکو کے اڈے پر تعینات ٹینک اگلے ماہ ہونے والی فوجی مشقوں کے لیے افغانستان کی سرحد کے

قریب پہنچ گئے ہیں۔اے ایف پی کے مطابق روس پانچ سے 10 اگست تک تاجکستان اور ازبکستان کے ساتھ افغانستان کی سرحد کے قریب واقع حرب میدان میں فوجی مشقیں کرے گا، جہاں طالبان نے افغان فوجیوں کے خلاف کارروائی کی تھی۔یہ فوجی مشقیں افغان سرحد کے قریب ترمیز ٹریننگ گراؤنڈ میں ہوں گی اور اس میں سینٹرل

ملٹری ڈسٹرکٹ اور ایوی ایشن کے روسی فوجی شامل ہوں گے۔وزارت دفاع کے مطابق یہ فوجی ’وسطی ایشیائی ریاستوں کی علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کے کاموں پر عمل کریں گے۔خیال رہے کہ طالبان نے غیر ملکی افواج کے انخلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پورے ملک میں کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔حالیہ ہفتوں میں طالبان کی پیش قدمی سے بھاگ کر افغان فوجی اور مہاجرین تاجکستان میں داخل ہوئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…