جمعہ‬‮ ، 24 اپریل‬‮ 2026 

آج کل کے ڈراموں کو ڈرامہ کہا ہی نہیں جا سکتا،لیجنڈری ڈرامہ ساز انور مقصود نے ڈرامے نہ لکھنے کی وجہ بتادی

datetime 13  جولائی  2021 |

کراچی (این این آئی)لیجنڈری ڈراما ساز، مزاح نگار اور مصنف 80 سالہ انور مقصود طویل عرصے سے ڈراما نگاری سے دور ہیں، البتہ وہ چند سال سے تھیٹرز لکھ رہے ہیں۔اس وقت جب پاکستان میں ڈراموں کی ریٹنگ کے نئے ریکارڈز بن رہے ہیں، تب نہ صرف انور مقصود بلکہ ان کی طرح دیگر معروف ڈراما ساز بھی ڈراموں سے دور ہیں اور شائقین چند لکھاریوں کے

یکساں موضوعات کے ڈرامے دیکھ کر خوش ہیں۔انور مقصود جس عہد کے ڈراما ساز ہیں، اس عہد کے لوگ بھی اب ٹی وی پر چلنے والے ڈرامے نہیں دیکھتے مگر نئی نسل حالیہ ڈراموں کے سحر میں گم ہے مگر پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کے ڈرامے دیکھنے والے لوگ آج بھی انور مقصود جیسے ڈراما نگاروں کے ڈرامے دیکھنے کے لیے ترستے ہیں۔مگر خود انور مقصود آج کل کے ٹی وی ڈراموں کے لیے خود کو فٹ نہیں سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حالیہ دور میں جس طرح کے ڈرامے لکھے اور چلائے جا رہے ہیں، ایسے ڈراموں کے لیے وہ فٹ نہیں ہیں اور ان کی جگہ نہیں بنتی، جس وجہ سے وہ خود ڈراموں سے دور ہو گئے۔ انور مقصود نے بتایا کہ وہ خود ڈراما لکھنے کے معاملے میں پیچھے ہٹ گئے ہیں، کیوں کہ آج کل کے دور میں ان کی جگہ بنتی ہی نہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کا اپنا خیال ہے کہ آج کل کے پاکستانی ڈراموں کو ڈراما کہا ہی نہیں جا سکتا، آج کے دور میں ڈائجسٹ میں کہانیاں لکھنے والے لکھاری 3 دن میں 20 ڈرامے بھی لکھ سکتے ہیں۔انور مقصود کے مطابق حالیہ دور میں تخلیقی صلاحیت کو اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ ریٹنگ کے معاملات سب سے زیادہ اہم ہیں اور مارکیٹنگ کے لوگ ہی ڈرامے کی کاسٹ اور کہانی سے متعلق فیصلہ کرتے ہیں، پروڈیوسر اور ہدایت کار کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔انہوں نے بتایا کہ ایک زمانے میں جب پاکستان میں بھارتی ڈرامے آنے لگے، تب اس وقت کے بڑے ڈراما سازوں کا خیال تھا کہ بھارتی لوگ ہم سے ڈراما سیکھیں گے مگر یہاں الٹا کام ہوا اور ہمارے لکھاریوں نے ان کی نقل کرنا شروع کردی۔



کالم



گریٹ گیم(چوتھا حصہ)


لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…