ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پی پی رہنما ججز کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگنے کو تیار، سپریم کورٹ کا فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

datetime 2  جولائی  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے چیف جسٹس کیخلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والے پیپلزپارٹی کے رہنما مسعودالرحمان کا معافی نامہ مسترد کرتے ہوئے آئندہ سماعت پرفرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا جبکہ مسعود الرحمان نے کہا ہے کہ 2 بیویاں اور7 بچے ہیں،اکیلا کمانے والا ہوں،عدالت کے پاؤں پکڑتا ہوں جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ

آپ کہہ رہے تھے کہ عدالت بلائے تو اوقات یاد دلاؤں گا،عدالت نے بلا لیا ہے اب ہمیں اوقات دکھائیں، نہال ہاشمی،طلال چوہدری اور دانیال عزیز سمیت تمام کیسز کا بھی جائزہ لیں گے۔جمعہ کو جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے سماعت کی۔مسعود الرحمان نے تحریری طورپرمعافی مانگتے ہوتے کہا کہ وہ عدالتوں اوراداروں کا احترام کرتے ہیں،والدہ کی وفات اور گھریلو جھگڑوں سے پریشان ہوں،پریشانی کی وجہ سے معلوم نہیں تھا کیا بول دیا،۔ججز والد کے درجے کے برابر ہیں مجھے معاف کر دیں جس طریقے سے عدالت حکم دے معافی مانگنے کیلئے تیار ہوں۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ سب کچھ بڑی بڑی باتیں کرنے سے پہلے سوچنا تھا۔چیف جسٹس پر حرام کی کمائی کا الزام کیسے عائد کیا؟،آپ نے کس بنیاد پر چیف جسٹس کو سیکٹر انچارج کہا؟،آپ کو ایٹم بم اور میزائل ٹیکنالوجی کا تو بخوبی علم تھا،چیف جسٹس کا ایٹم بم اور میزائل سے کیا تعلق؟،ایسے تو ہر کوئی توہین آمیز تقریر کرکے معافی مانگ لے گا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ نے چیف جسٹس کو سیاسی جماعت کا سیکٹر انچارج کہا یہ سب باتیں کس نے آپ کوکہیں؟۔مسعودالرحمان عباسی نے کہا کہ کسی نے کچھ نہیں کہا،سب باتیں خود کیں،غلطی ہوگئی،ایف آئی اے کی رپورٹ بتائیگی کہ مسعودالرحمان عباسی نے یہ تقریر کیوں کی، آپ ایک معزز شہری ہیں اپنی عزت و وقار برقرار رکھیں۔

عدالت قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ مسعود الرحمان عباسی سے تفتیش کر رہے ہیں،عدالت سے 3 روز کا ریمانڈ لیا ہوا ہے،جو بھی مسعود الرحمان عباسی کے پیچھے ہوا نرمی نہیں کرینگے۔عدالت نے کیس میں اٹارنی جنرل کوپراسیکیوٹرمقررکرتے ہوئے کہا کہ بینچ کی دستیابی پر کیس سماعت کیلئے مقرر کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…