اتوار‬‮ ، 22 مارچ‬‮ 2026 

نیتن یاھو کا امریکی وزیر کے ساتھ نیوز کانفرنس سے انکار

datetime 22  جولائی  2015 |

یروشلم (نیوزڈیسک )ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے متنازع جوہری پروگروام پر طے پائے معاہدے پر سیخ پا اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے دورے پر آئے امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے انکار کر دیا۔العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دونوں رہ نمائوں کے درمیان منگل کو مغربی یروشلم میں ملاقات ہوئی تھی۔ ملاقات کے بعد سفارتی پروٹوکول کے تحت دونوں رہ نمائوں کو ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرنا تھا تاہم نیتن یاھو نے عین آخری وقت میں پریس کانفرنس سے انکار کر دیا۔مقبوضہ بیت المقدس میں “العربیہ” کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سفارتی پروٹوکول کے تحت اسرائیلی وزیر اعظم کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ملاقات کے بعد مہمان امریکی وزیر دفاع کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کا اہتمام کرتے تاہم وہ ایسا کرنے کے کلی طور پر پابند نہیں تھے۔ نیتن یاھو کی جانب سے پریس کانفرنس سے انکار نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ بات چیت سے انکار کرکے عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام حسین کی راہ پر چل رہے ہیں۔منگل کو امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی وزیراعظم سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد ایشٹن نے صحافیوں کو بتایا کہ نیتن یاھو بوجوہ مشترکہ پریس کانفرنس کے حامی نہیں ہیں۔ مبصرین کے خیال میں نیتن یاھو نے ایشٹن کارٹر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے انکار کرکے ایران کے ساتھ طے پائے سمجھوتے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور واشنگٹن کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ ایران سے سمجھوتے کے حوالے سے اس کی تسلیوں پر تل ابیب کو اطمینان نہیں ہے۔یاد رہے کہ امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر اسرائیل آئے ہی اس لیے تھے تاکہ وہ تل ابیب کو تہران کیساتھ عالمی طاقتوں کے سمجھوتے پر قائل کر سکیں تاہم بہ ظاہر لگ رہا ہے کہ امریکی وزیر دفاع اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہوئے کیونکہ نیتن یاھو، ایران سے ڈیل کی مخالفت کے اپنے موقف پر بدستور قائم ہیں اور وہ حوالے سے امریکا سے مزید بات چیت نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ امریکا میں بھی اب معرکہ کانگریس میں پہنچ گیا ہے۔ کانگریس ایران سے ڈیل کی توثیق کرے گی یا نہیں اس کے بارے میں فی الوقت کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔تجزیہ نگار “اوری ڈرومی” کا کہنا ہے کہ “تل ابیب کو امریکی انتظامیہ سے اب زیادہ امید نہیں رہی۔ ایران سے ڈیل کے حوالے سے تل ابیب کی نظریں اب کانگریس پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر کانگریس بھی ایران سے سمجھوتے کی توثیق کر دیتی ہے تو وائیٹ ہائوس اور تل ابیب میں اختلافات مزید گہرے ہو جائیں گے”۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ نیتن یاھو کا احتجاج اپنی جگہ اہم مگر وہ یہ بھی سمجھ چکے ہیں اب وقت ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔نیتن یاھو یہ سمجھتے ہیں کہ اگرامریکا کی غیرمعمولی عسکری پشکشوں کو قبول کر لیتے ہیں تو وہ کانگریس میں ایران کے خلاف اپنا مقدمہ مضبوطی نہیں سے لڑ سکیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…