جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

خلائی مخلوق کی تلاش میں بڑی پیش رفت

datetime 21  جولائی  2015 |

کائنات میں خلائی مخلوق کی تلاش کے لیے ایک روسی ارب پتی نے ایک سو ملین ڈالر کا عطیہ فراہم کیا ہے۔ اس منصوبے میں دنیا کے مشہور ماہر طبیعیات اسٹیفن ہاکنگ مشیر کی حیثیت سے شریک ہیں۔کیا ہم اس کائنات میں تنہا ہیں یا کوئی خلائی مخلوق بھی پائی جاتی ہے؟ انسان اس سوال کے جواب میں ایک عرصے سے سرگرداں ہے۔ اب اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے روسی ارب پتی یورج مِلنر نے ایک سو ملین ڈالر کی خطیر رقم عطیہ کی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعلان آج لندن میں کیا۔
یہ روسی ارب پتی، جس وقت لندن میں اس نئے تحقیقی منصوبے کا اعلان کر رہے تھے، اس وقت ان کے ساتھ دنیا کے نامور سائنسدان بھی موجود تھے، ان میں اسٹیفن ہاکنگ بھی شامل ہیں۔ اس منصوبے کا نام ’بریک تھرو لِسن‘ رکھا گیا ہے۔ رقم عطیہ کرنے والے ارب پتی مِلنر ایک ٹیم منتخب کریں گے اور یہ ٹیم دس برس تک کائنات میں پیدا ہونے والی آوازوں کو سنیں گے۔ اس منصوبے کے تحت ریڈیو دوربینوں کے ذریعے کائنات میں گردش کرنے والی آوازوں کو پکڑا جائے گا تاکہ پتہ چلایا جا سکے کہ آیا کوئی خلائی مخلوق بھی موجود ہے ؟سب سے پہلے مرحلے میں حاصل ہونے سگنلز کو سمجھنے کی بجائے یہ اندازہ لگایا جائے گا کہ آیا یہ کسی ذہین مخلوق کے ہو سکتے ہیں ؟ ان دس برسوں میں سائنسدان مِلکی وے اور اس کے ارد گرد پائی جانے والی تقریباﹰ ایک سو کہکشاؤں سے نکلنے والے ریڈیو سِگنلز کا جائزہ لیں گے۔
13
دس برسوں میں سائنسدان مِلکی وے اور اس کے ارد گرد پائی جانے والی تقریباﹰ ایک سو کہکشاؤں سے نکلنے والے ریڈیو سِگنلز کا جائزہ لیں گےسائنسدانوں کے مطابق خلائی مخلوق یا پھر ذہین مخلوق کی تلاش کے لیے یورج مِلنر کی طرف سے ملنے والی رقم اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ اس منصوبے میں مشیر ہی کی حیثیت سے شامل کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ماہر فلکیات پروفیسر ڈین ویرتھ ہائمر کا کہنا تھا کہ ابھی تک خلائی مخلوق کی تلاش کے لیے دنیا بھر میں سالانہ دو ارب ڈالر سے بھی کم رقم خرچ کی جاتی ہے۔انسان گزشتہ کئی دہائیوں سے کائنات میں کسی دوسری مخلوق کی موجودگی سے متعلق سگنلز تلاش کرنے میں مصروف ہے لیکن یہ کوششیں ابھی تک بیکار ثابت ہوئی ہیں۔ اسی نوعیت کے ایک منصوبے کا آغاز سن 1960ء میں فرینک ڈریک کی طرف سے کیا گیا تھا، جو بہت مشہور ہوا تھا۔روسی ارب پتی نے سن 2012ء سے فزکس کے شعبے میں ’بریک تھرو پرائز‘ کا بھی آغاز کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی طرف سے بائیو سائنس کے شعبے میں بھی ایک انعام دیا جاتا ہے۔ کسی بھی سائنسدان کو دیے جانے والے اس ایوارڈ کی مالیت تیس لاکھ امریکی ڈالر ہوتی ہے جبکہ نوبل انعام حاصل کرنے والے سائنسدان کو محض بارہ لاکھ کی رقم عطا کی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…