جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

داعش کم سن جنگجوﺅں کو سرقلم کرنے تربیت دینے لگی

datetime 21  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)شام اور عراق میں سرگرم تنظیم اسلامک اسٹیٹ “داعش” کی جانب سے کم عمربچوں کو بھی مخالفین کو قتل کرنے کی باضابطہ تربیت دی جاتی ہے۔ انہیں یرغمال بنائے گئے لوگوں کے گلے کاٹںے اور انہیں ہلاک کرنے کے ‘گر’ سکھائے جاتے ہیں۔
برطانوی اخبار”ڈیلی میل” کی ایک رپورٹ کے مطابق کچھ عرصہ قبل عراق میں “داعش” کے چنگل سے فرار ہونے والے یزیدی قبیلے کے ایک چودہ سالہ لڑکے یحیی نے بتایا کہ داعشی جنگجو انہیں جبر اسلام قبول کرانے کی کوشش کرتے۔ یرغمال بنائے جانے کے بعد ہمیں تنظیم جنگجو کے طورپر شامل کرنے کےلیے جنگی تربیت دیتی جاتی اورہمیں گڑیا کی مدد سے یرغمالیوں کے سرقلم کرنے کے طریقے سکھائے جاتے ۔یزیدی قبیلے سے تعلق رکھنے والا یحی اپنے بھائی کے ہمراہ گذشتہ مارچ کو عراق میں “داعش” کی چنگل سے فرار میں کامیاب ہو گیا تھا۔ خبر رساں ایجنسی” ایسوسی اییٹڈ پریس” سے بات کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ انہیں یرغمال بنائے جانے کے بعد نہایت کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے بڑی عمر کے مردوں کو قتل کر دیا گیا۔ خواتین اور بچوں کو لونڈیا اور غلام بنایا گیا اور پھر انہیں جبرا اسلام قبول کرنے یا لونڈی غلام کے طور پر رہنے پر مجبور کیا گیا۔یحی نے بتایا کہ وہ اپنے بھائی سمیت کئی دوسرے رشتہ داروں کے ہمراہ پانچ ماہ تک “داعش” کے ایک کیمپ میں رہے جہاں گڑیا کا سر قلم کرنے کے ذریعے ہمیں مخالفین کی گردنی اتارنے کے طریقے بتائے جاتے۔ ہمیں بتایا جاتا کہ یرغمالی دشمن پر تلوار کا وار کیسے کرنا ہے۔اس نے بتایا کہ داعشی جنگجو ہمیں بتاتے کہ آپ نے “کفار” کی گردنیں اڑانی ہیں۔ اگر ہم انہیں قتل نہیں کریں گے تو وہ ہمیں قتل کر دیں گے۔ ہمیں اپنی جانیں بچانے کے لیے بھی دشمن کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے۔خیال رہے کہ کم عمر بچوں کو جنگجوﺅں کے طور پر استعمال کرنے کا “داعشی” کلچر شام اور عراق میں عام ہے۔ داعش نے بچوں کے ہاتھوں سے قلم وکتاب چھین کر انہیں جنگ کا ایندھن بنانے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ اس سےقبل کم عمربچوں کے ہاتھوں مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کے کئی واقعات ویڈیوز کی شکل میں منظرعام پرآ چکے ہیں۔چند ہفتے پیشتر داعش نے شام میں یرغمال بنائے گئے25 سرکاری فوجیوں کے قتل کے لیے بھی کم عمربچوں ہی کو استعمال کیا گیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کی جانب سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ شام سے تعلق رکھنے والے 16 سال سے کم عمر کے 1100 بچوں کو داعش کی صفوں میں جنگجوﺅں کے طور پر بھرتی کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…