جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

چون برس بعد سفارتخانے کھول دے گئے

datetime 20  جولائی  2015 |

واشنگٹن (نیوزڈیسک)گزشتہ نصف صدی کی سرد جنگ اور دشمنی کے بعد امریکا اور کیوبا نے نے باقاعدہ طور پر سفارتی تعلقات بحال کرتے ہوئے ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں سفارتخانے کھول دیے ہیں۔آج چون برس بعد کیوبا اور امریکا کے مابین باقاعدہ طور پر سفارتی تعلقات بحال ہو گئے ہیں۔ اس تاریخی پیش رفت کو امریکی صدر باراک اوباما کی میراث قرار دیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ایک دوسرے کے جانی دشمن امن کی جانب بڑھے ہیں۔ صرف چند مہینوں میں فریقین نے کلہاڑیاں پھینکتے ہوئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔واشنگٹن کے رویے میں یہ تبدیلی اس وقت آئی، جب یہ محسوس کیا گیا کہ کمیونسٹ کیوبا کے خلاف سخت تجارتی پابندیوں اور اسے تنہا کرنے کی امریکی پالیسی ناکام ہو چکی ہے جبکہ ہوانا حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنا وہاں جمہوریت کے قیام اور خوشحالی کے لیے زیادہ بہتر طریقہ ہے۔سن 1961ء کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب ہی واقع ہوانا حکومت کے سفارتخانے کی عمارت پر کیوبا کا پرچم لہرایا گیا ہے۔ اسی طرح ایک دوسری تاریخی پیش رفت کے طور پر آج امریکی وزیر خارجہ جان کیری اپنے کیوبا کے ہم منصب برونو رودریگز کا استقبال کریں گے اور یہ دونوں رہنما آج بین الاقوامی وقت کے مطابق شام پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر مشترکہ پریس کانفرنس بھی کریں گے۔امریکی صدر باراک اوباما اور کیوبا کے رہنما راؤل کاسترو نے دونوں ملکوں کے مابین مفاہمتی پالیسی کا اعلان گزشتہ برس سترہ دسمبر کو کیا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ پانچ صدیوں سے تلخی کے شکار تعلقات کو معمول کی سطح پر لایا جائے گا۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے سفارتکاروں کے مابین واشنگٹن اور ہوانا میں متعدد ملاقاتیں ہوئیں اور آغاز کے سات ماہ بعد آج سفارتخانے کھول دیے گئے ہیں۔لیکن دونوں قوموں کے رہنماؤں نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف آغا ہے، عشروں پر محیط دشمنی کو صرف چند ماہ میں ختم کرنا مشکل ہے۔ جمعے کے روز امریکی وزیر خارجہ کے ایک ترجمان کا اعتراف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’’کچھ مسائل ایسے بھی ہیں، جن پر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر‘‘ بات نہیں کی جا سکتی۔امریکی تھینک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے تجزیہ کار ٹیڈ پیکن کہنا تھا، ’’امریکا سرد جنگ کی اپروچ کو ختم کرتے ہوئے تعمیری پیش رفت چاہتا ہے اور اسی طریقے سے کیوبا کے عوام کا با اختیار بنانے کی حمایت کی جا سکتی ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ کیوبا کو اپنی معاشی ترقی اور نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے امریکا کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے لیے اب سب سے مشکل مرحلہ دو طرفہ اعتماد کی بحالی کا ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…