اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

چون برس بعد سفارتخانے کھول دے گئے

datetime 20  جولائی  2015 |

واشنگٹن (نیوزڈیسک)گزشتہ نصف صدی کی سرد جنگ اور دشمنی کے بعد امریکا اور کیوبا نے نے باقاعدہ طور پر سفارتی تعلقات بحال کرتے ہوئے ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں سفارتخانے کھول دیے ہیں۔آج چون برس بعد کیوبا اور امریکا کے مابین باقاعدہ طور پر سفارتی تعلقات بحال ہو گئے ہیں۔ اس تاریخی پیش رفت کو امریکی صدر باراک اوباما کی میراث قرار دیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ایک دوسرے کے جانی دشمن امن کی جانب بڑھے ہیں۔ صرف چند مہینوں میں فریقین نے کلہاڑیاں پھینکتے ہوئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔واشنگٹن کے رویے میں یہ تبدیلی اس وقت آئی، جب یہ محسوس کیا گیا کہ کمیونسٹ کیوبا کے خلاف سخت تجارتی پابندیوں اور اسے تنہا کرنے کی امریکی پالیسی ناکام ہو چکی ہے جبکہ ہوانا حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنا وہاں جمہوریت کے قیام اور خوشحالی کے لیے زیادہ بہتر طریقہ ہے۔سن 1961ء کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب ہی واقع ہوانا حکومت کے سفارتخانے کی عمارت پر کیوبا کا پرچم لہرایا گیا ہے۔ اسی طرح ایک دوسری تاریخی پیش رفت کے طور پر آج امریکی وزیر خارجہ جان کیری اپنے کیوبا کے ہم منصب برونو رودریگز کا استقبال کریں گے اور یہ دونوں رہنما آج بین الاقوامی وقت کے مطابق شام پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر مشترکہ پریس کانفرنس بھی کریں گے۔امریکی صدر باراک اوباما اور کیوبا کے رہنما راؤل کاسترو نے دونوں ملکوں کے مابین مفاہمتی پالیسی کا اعلان گزشتہ برس سترہ دسمبر کو کیا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ پانچ صدیوں سے تلخی کے شکار تعلقات کو معمول کی سطح پر لایا جائے گا۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے سفارتکاروں کے مابین واشنگٹن اور ہوانا میں متعدد ملاقاتیں ہوئیں اور آغاز کے سات ماہ بعد آج سفارتخانے کھول دیے گئے ہیں۔لیکن دونوں قوموں کے رہنماؤں نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف آغا ہے، عشروں پر محیط دشمنی کو صرف چند ماہ میں ختم کرنا مشکل ہے۔ جمعے کے روز امریکی وزیر خارجہ کے ایک ترجمان کا اعتراف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’’کچھ مسائل ایسے بھی ہیں، جن پر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر‘‘ بات نہیں کی جا سکتی۔امریکی تھینک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے تجزیہ کار ٹیڈ پیکن کہنا تھا، ’’امریکا سرد جنگ کی اپروچ کو ختم کرتے ہوئے تعمیری پیش رفت چاہتا ہے اور اسی طریقے سے کیوبا کے عوام کا با اختیار بنانے کی حمایت کی جا سکتی ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ کیوبا کو اپنی معاشی ترقی اور نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے امریکا کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے لیے اب سب سے مشکل مرحلہ دو طرفہ اعتماد کی بحالی کا ہو گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…