ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

کابل اسکول دھماکوں نے سانحہ اے پی ایس پشاور کے زخم تازہ کردیے

datetime 9  مئی‬‮  2021 |

لاہور ( آن لائن ) مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز نے گزشتہ روز ہونے والے کابل بم دھماکوں میں قیمتی جانوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل اسکول دھماکوں نے سانحہ اے پی ایس پشاور کے زخم تازہ کردئیے ۔ جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے افغان دارالحکومت کابل میں اسکول دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں میں اکثریت طلبہ کی تھی ، اس بہیمانہ واقعے نے سانحہ اے پی ایس پشاور کے زخم تازہ کردیے ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ روز کابل میں اسکول کے قریب بم دھماکوں

میں طالبات سمیت درجنوں افراد جاں بحق ہوگئے تھے، یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے ہیں جب افغانستان سے امریکی افواج طویل جنگ کے بعد واپس روانہ ہو رہی ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسکول پر کار بم حملے میں جاں افراد کی تعداد 68اور زخمیوں کی تعداد 150 ہوگئی ہے، جاں بحق اور زخمیوں میں زیادہ تر طالبات شامل ہیں۔لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں بعض زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے جب کہ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کی مذمت بھی کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…