جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی نوجوان نے کیمبرج کی طرح امتحانی بورڈ بنا لیا

datetime 2  مئی‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)پاکستانی نوجوان نے کیمبرج کی طرح امتحانی بورڈ بنا لیا جسے برطانیہ، یو اے ای، آسٹریلیا اور کینیڈا میں بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔برطانیہ میں مقیم ماہر تعلیم پاکستانی نوجوان زوہیب طارق نے کیمبرج انٹرنیشنل کی طرح امتحانی بورڈ لرننگ ریسورس نیٹ ورک(ایل آر این ) بنا لیا ہے، برطانیہ میں انہیںکوئنز ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے

زوہیب طارق نے کہا کہ لرننگ ریسورس نیٹ ورک ایسا ہی ایک امتحانی بورڈ ہے جس طرح پاکستان میں کراچی بورڈ ہے، سندھ بورڈ ہے، اور جیسا کہ برطانیہ کا کیمبرج بورڈ ہے۔زوہیب طارق نے بتایا کہ ایل آر این برطانیہ کا امتحانی بورڈ ہے، اور میرے پاس اس کے بالکل اسی طرح اس کے اوارڈنگ پاورز ہیں، جیسا کے کیمبرج کے پاس اپنے بورڈ کے لیے ہوتے ہیں، اور یہ برطانوی حکومت سے منظور شدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے امتحانی بورڈ کا اطلاق دنیا کے 58 ممالک میں ہو چکا ہے، ان ممالک میں ہمارے ٹیسٹ سینٹرز ہیں، جہاں ہم امتحانات لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتاہوں کہ پاکستان میں بھی اس سے طلبہ کو فائدہ حاصل ہو، اس سے پاکستانی طالب علموں کو یہ فائدہ ہوگا کہ وہ پاکستان میں برطانوی اہلیت حاصل کر سکیں گے یعنی اگر وہ برطانیہ نہ جانا چاہے تو وہ پاکستان میں بیٹھے بیٹھے بھی وہی کوالیفکیشن لے سکتے ہیں جو ایک طالب علم برطانیہ جا کر لیتا ہے اور یہ کوالیفکیشن عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کوالیفکیشن طلبہ کو امیگریشن میں مددگار ثابت ہوگی، اگر وہ کینیڈا یا کسی اور ملک جائیں گے تو یہ کوالیفکیشن امیگریشن کے لیے تسلیم شدہ ہے۔زوہیب نے بتایا کہ انہوں نے طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے لیے بھی کام کیا ہے، ہم ٹیچرز ٹریننگ کے کوالیفکیشن بھی آفر کرتے ہیں، اگر وہ اچھی طرح تربیت یافتہ ہوں گے تو وہ بچوں کو بھی سکھا سکیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…