جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ایٹمی کمیشن کا وینٹی لیٹر ہر طرف دھوم مچ گئی خریداروں کی غیرمعمولی دلچسپی

datetime 1  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے جدید ترین وینٹی لیٹر کی خریداری کیلئے ملک بھر کے میڈیکل اداروں نے غیرمعمولی دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے ایٹمی توانائی کمیشن سے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔ روزنامہ جنگ میں حنیف خالد کی خبر کے مطا بق کمیشن کے ترجمان نے بتایا کہ آئی لیو

وینٹی لیٹر ہر درآمدی سستے اور مہنگے وینٹی لیٹر کے مقابلے میں درجہ ہا بہتر اور کم قیمت ہو گا۔ ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ یہ وینٹی لیٹر کسی غیرملکی کمپنی کے اشتراک سے نہیں بنایا گیا‘ یہ قومی سائنس دانوں‘ انجینئرز اور ٹیکنیشنوں کی مشترکہ کاوشوں کا ثمر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سائنس دانوں‘ انجینئرز اور ٹیکنیشینز کا کارنامہ ہے کہ انہوں نے ملکی وسائل سے ایک ایسی مشین وینٹی لیٹر جس کی ملک کو فوری ضرورت ہو سکتی ہے، بنا کر قوم کو اچھی امید دی ہے کہ پاکستانی ادارے بالخصوص اٹامک انرجی کا ادارہ قوم کی ہر ضرورت کیلئے اپنی کوششیں کرتا رہے گا۔ ملکی وسائل سے تیار کردہ اس وینٹ کا نام آئی لیو (I-Live) رکھا گیا ہے۔یاد رہے کہ ملک میں کرونا کیسز کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے ایسے میں وینٹی لیٹرز کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…