جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

انشا ء اللہ پاکستان میں آکسیجن کی کمی کا بحران پیدا نہیں ہو گا، پاکستان اسٹیل ملز آکسیجن پلانٹ کی بحالی کی تیاریاں مکمل

datetime 29  اپریل‬‮  2021 |

کراچی،لاہور(مانیٹرنگ +این این آئی) پاکستان میں آکسیجن کی کمی کا بحران پیدا نہیں ہو گا، حکومت کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، پاکستان اسٹیل ملز میں موجود آکسیجن پلانٹ کو بحال کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، دوسری جانب وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال

نے آکسیجن بنانے والی کمپنیوں کے نمائندوں سے سول سیکرٹریٹ میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران آکسیجن کی پیداوارمیں اضافے اور ہیلتھ سیکٹر کو فراہمی، درپیش مسائل، دستیاب سٹاک اور دیگر امور پر بات چیت ہوئی۔ آکسیجن مینو فیکچرز کا کہنا تھا انسانی جانوں کا تحفظ قومی فریضہ ہے اور ہم ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہیں۔آکسیجن مینو فیکچرز نے بتایا کہ فی الحال آکسیجن کی قلت کا کوئی مسئلہ نہیں تاہم انہوں نے کرونا بڑھنے پر آکسیجن کی درآمد کی تجویز بھی دی۔آکسیجن مینو فیکچرز نے صوبائی وزیر کوٹیچنگ ہسپتالوں سے واجبات کی ادائیگی، آکسیجن کے ٹرانسپورٹ ٹینکرزکو موٹر وے پر اجازت، آکسیجن وہیکل کو ریلیف کی فراہمی اور دیگر مسائل سے آگاہ کیا اور ٹیکسوں و الیکٹریسٹی ٹیرف میں ریلیف کا بھی مطالبہ کیا۔صوبائی وزیر نے آکسیجن مینو فیکچرز کومسائل کے حل اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے کہا ہے کہ کرونا وبا کی شدت سے زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہوا ہے۔پنجاب حکومت لوگوں کی زندگیوں اوران کے کاروبار کے تحفظ کیلئے ہر ضروری اقدامات اٹھا رہی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ آکسیجن مینو فیکچرز کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لئے ہر ممکن سہولت دیں گے۔آکسیجن مینو فیکچرز اپنی سفارشات بھجوائیں، جن

کی روشنی میں مزید اقدامات کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ خدانخواستہ کرونا مزید پھیلا تو آکسیجن کا استعمال بڑھنے سے پروسیسنگ انڈسٹری کو آکسیجن کی فراہمی بند کرنا پڑ سکتی ہے۔ آکسیجن مینو فیکچرز نے ٹیچنگ ہسپتالوں میں گیس سٹاک کی کپیسٹی بڑھانے کی تجویز بھی دی۔ملاقات کرنے والوں میں غنی کیمیکل لمیٹڈ

کے بلال بٹ، شریف آکسیجن لمیٹڈ کے سیلز مینجرسید بدرمنیراور پاکستان آکسیجن لمیٹڈ کے مارکیٹنگ مینجرسید جواد جعفری شامل تھے جبکہ ملتان کیمیکلز لمٹیڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر طارق بابر وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ڈی جی انڈسٹریز اور محکمہ صحت کے افسران بھی ملاقات میں موجود تھے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…