منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

150 ممتاز شہریوں کا ایچ ای سی (ترمیمی) آرڈیننس واپس لینے کا مطالبہ، وزیراعظم کے نام کھلا خط

datetime 25  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن )  150 ممتاز ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے وزیر اعظم عمران خان کو کھلا خط لکھا ہے جس میں ایچ ای سی ترمیمی آرڈیننس کو واپس لینے اور آزاد قومی ریگولیٹری باڈی کی حیثیت سے ایچ ای سی کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔حکومت نے 25 مارچ 2021 کو ایچ ای سی (ترمیمی) آرڈیننس 2021 جاری کیا ، جس کے ذریعے چیئرپرسن کی

مدت ملازمت کو 4 سے کم کرکے 2 سال کردیا گیا ، موجودہ چیئر ڈاکٹر طارق بنوری کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ایچ ای سی کو وفاقی وزارت تعلیم کے ماتحت کردیا گیا۔خط پر دستخط کرنے والوں میں ماہرین تعلیم ، وائس چانسلرز ، صحافی ، سابق سفیر ، جرنیل اور دیگر سرکاری عہدیدار، پارلیمنٹیرین اور انسانی حقوق کے علمبردار جن میں لمز کے بانی سید بابر علی، انسانی حقوق کی رہنما محترمہ حنا جیلانی ،حارث خالق، کرامت علی، ڈاکٹر قبلہ ایاز ،پروفیسر قاسم جان، پروفیسر عادل نجم، محترمہ خاور ممتاز، نامور صحافی ایم ضیاالدین، حسین نقی، ماہرین تعلیم شمش قاسم لکھا، محترمہ شہناز وزیر علی، ڈاکٹر عائشہ رزاق، فاروق ثمر، سابق سینیٹرز جاوید جبار اور فرحت اللہ بابر شامل ہیں۔دستخط کنندگان نے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہیکہ وفاقی حکومت نے لاکھوں طلبا کی زندگی کو متاثر کرنے والے اہم فیصلے کو پارلیمنٹ ، مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) ، یا اعلی تعلیم کے کمیشن سے مشورہ کیے بغیر عجلت میں لیا۔ یہ تمام آئینی ادارے ہیں جو اس معاملہ بالواسطہ منسلک ہیں۔ ایچ ای سی کی بطور آزاد خودمختار قومی ادارہ منسوخی اور وفاقی حکومت کیماتحت ادارہ کے طور پر منتقلی سے بین الصوبائی تعلقات کے ساتھ ساتھ اعلی تعلیمی اداروں کی خودمختاری پر بھی مضمر اثرات ہوں گے۔دستخط کرنے والوں نے چیئرپرسن کی میعاد کو دو سال کم کرنے کے پیچھے کی منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مختصر مدت سے اعلیٰ تعلیم کے معیار میں بہتری آئے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چیئر پرسن کی مدت تعیناتی کو دیئے گئے قانونی تحفظ کو ختم کرنے سے حکومت کے اسی طرح کے وعدے بیکار ہوجائیں گے اور اس سے انتظامی مسائل پیدا ہوں گے۔خط میں بتایا گیا ہے کہ ایچ ای سی کے موجودہ چیئرپرسن ڈاکٹر طارق بنوری ہارورڈ کے تربیت یافتہ ماہر معاشیات ہیں جن کو ایک آزاد سلیکشن بورڈ کی سفارش پر مقرر کیا گیا تھا ، جو مکمل طور پر پیشہ ور افراد پر مشتمل تھا ، اور اس میں حکمران سیاسی جماعت کی شمولیت نہ تھی۔ اپنی تقرری کے بعد سے ہی انہوں نے اعلی تعلیم کے نظام میں شفافیت ، احتساب اور معیار پر مشتمل مربوط اصلاحات کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ ان کو اس طرح اپنی سیٹ سے ہٹانے کے باعث ایجنڈا نامکمل رہ جائے گا۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایچ ای سی (ترمیمی) آرڈیننس کو ختم کیا جانا چاہئے ، چیئرمین کو اپنے عہدے پر بحال کیا جانا چاہئے اور یونیورسٹی فنڈ کو درکار سطح تک بحال کرکے ملک میں تعلیم اور تحقیق کے معیار میں مطلوبہ بہتری لائی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…