جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

2 سال قبل بے آبرو کرکے مار دی جانیوالی ننھی فرشتہ کے والد کو انصاف نہ مل سکا،گل نبی کی دل دکھی کر دینے والی باتیں

datetime 1  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی دارلحکومت میں دوسال قبل بے آبروکرنے کے بعد مار دی جانیوالی ننھی فرشتہ کے والد،گل نبی نے کہا ہے کہ دو سال سے عدالتوں اور کچہریوں کے چکر لگا رہا،انصاف نہیں مل رہا، افواہ پھیلا ئی جا رہی ہے کہ میں نے راضی نامہ کر لیا ہے اور میرے کیس کو کمزور کرنے کی سازش کی جارہی ہے،مجھے

انصاف دیا جائے بصورت دیگر خودسوزی کر لوں گا،وفاقی پولیس نے بلند و بانگ دعوے اور وعدے کیے ایک بھی وفا نہ ہوا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کیا،گل نبی کا کہنا تھا کہ دو سال سے عدالتوں کے چکر لگا رہا اور مجھے سمجھ نہیں آتی کہ وکیل،پولیس یا عدالت مجھے انصاف دینے میں دیر کر رہی ہیں،ملزم جیل سے دندناتا ہوا آتا اور چلا جاتا ہے،میں ایسا بد نصیب باپ ہوں جن کو اپنی بچی کی لاش بھی ثابت نہ مل سکی ہے،گل نبی کا کہنا تھا کہ اب شوشہ چھوڑا جا رہا ہے کہ میں نے ملزمان سے صلح کر لی ہے اور یہ باتیں میرے کیس پر اثر انداز ہو رہی ہیں،دوسری جانب جس ملزم کو ہم نے گرفتار کروایا تھا اس کو تو فوری سزا دی جانی چاہیے تھی،اس موقع پر بہت بڑے لوگوں نے گھر آ کر تسلی دی اور انصاف دینے کے وعدے کیے مگر سب الٹ ثابت ہوا ہے،انہوں نے کہا کہ میرا چھوٹا سا کاروبار تھا اور وہ بھی تباہ ہو گیا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ میر ی ارباب اختیار سے اپیل ہے کہ مجھے جلد از جلد انصاف مہیا کریں بصورت دیگر اپنے خاندان کے ہمراہ خودسوزی کر لوں گا،گل نبی کا کہنا تھا کہ کسی بھی دور حکومت میں ایسا نہ ہوا تھا جتنا اس دور حکومت میں بچوں و بچیوں سے ظلم ہورہا ہے،وفاقی پولیس نے اب یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ جس ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے وہ اب ملزم ہی نہیں ہے،ایسی صورتحال میں میرے یا ہمارے خاندان کے ساتھ کوئی حادثہ ہوا تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا،میری اپیل ہے کہ میری ننھی بیٹی کے قاتل کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…