منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی معیشت مکمل طور پر آئی ایم ایف کے کنٹرول میں آ جائے گی جبکہ مرکزی بینک کا گورنر ملک میں آئی ایم ایف کا فنانشل وائسرائے بن جائے گا، تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 21  مارچ‬‮  2021 |

کراچی(آن لائن)پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ سٹیٹ بینک ایکٹ میں ترمیم کر کے اس ادارے کو غیر ضروری اختیارات دئیے جا رہے ہیں جو ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ مجوزہ ترمیم سے پاکستانی معیشت مکمل طور پر آئی ایم ایف کے کنٹرول میں آ جائے گی جبکہ مرکزی بینک کے گورنر کو ملک میں

آئی ایم ایف کا فنانشل واسرائے بن جائے گا جس سے معاشی بدحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ سٹیٹ بینک کو خود مختار ہونا چائیے مگر اسے مادر پدر آزاد نہیں کیا جا سکتا ہے نہ ہی اسکے کام میں بنیادی تبدیلی لائی جا سکتی ہے ۔راتوں رات عجلت میں کئے گئے فیصلوں کو عوام کبھی بھی قبول نہیں کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک افسران کونیب اور ایف آئی اے سمیت تمام اداروں سے ہر قسم کی استثنیٰ دینا نہ صرف حیران کن ہے بلکہ آئین اور قانون کے خلاف بھی ہے۔پارلیمنٹ وزیر اعظم کو تو ہٹا سکتی ہے مگرمجوزہ قانون کے تحت مگر گورنر سٹیٹ بینک کو نہیں ہٹا سکے گی جبکہ نیب اور ایف آئی اے جو وزیر اعظم کو تو طلب کر سکتے ہیں مگر سٹیٹ بینک کے افسران کو طلب نہیں کر سکیں گے جو ایک بین الاقوامی سازش کی تکمیل اورغلامی کے بدترین دور کا آغاز ہو گا۔انھوں نے کہا کہ ماضی میں بھی کئی بارآئی ایم ایف نے اس قسم کی ترمیم کی کوششیں کی تھیں جنھیں ہر حکومت نے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا مگر اس باروفاقی کابینہ نے چند منٹ کی بحث کے بعد اسکی منظوری دے دی ہے ۔اگر یہ قانون بن گیا تو سٹیٹ بینک ایک عفریت بن جائے گا ، تمام اہم پالیسیوں کا فیصلہ عالمی ادارے کریں گے اورملکی آزادی خودمختاری اور اقتدار اعلیٰ ختم ہو جائے گا اورزلت و غلامی ہمارا مقدر بن جائے گا۔حکومت اس ضمن میں اقتصادی ماہرین کے تحفظات کو نظر انداز نہ کرے جبکہ اپوزیشن بھی اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھے ورنہ دیرھ ہو جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…