جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم کا تین کروڑ خاندانوں کو سبسڈی دینے کا فیصلہ

datetime 10  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ جون میں تین کروڑ خاندانوں کو سبسڈی دیں گے۔اسلام آباد میں کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پناہ گاہ کو دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے، مستحق لوگوں کو پناہ گاہ کی سہولت فراہم کررہے ہیں، ضروری

ہے کہ پناہ گاہوں کے کھانے کا معیار ہمیشہ اچھا ہو۔وزیراعظم نے کہا کہ سب سے مشکل کام مزدوروں کا ہے، ان کے لیے پناہ گاہ نعمت ہے، جس کے باعث مستحق افراد باعزت طور پرکھانا کھا سکتے ہیں، جلد پورے پاکستان میں ہمارے یہ ٹرک کھانا فراہم کریں گے، بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس پروگرام میں شرکت کرنا چاہتے ہیں، ہر اس علاقے میں پناہ گاہ بنائیں گے جہاں مزدور آتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا، پنجاب اور گلگت بلتستان کے شہریوں کو ہیلتھ کارڈ دے رہے ہیں، جن کے ذریعے کسی بھی اسپتال سے 10لاکھ روپے تک کا علاج کرایا جاسکتا ہے، جون میں تین کروڑ خاندانوں کو سبسڈی دیں گے، غریب لوگوں کے اکاؤنٹس میں پیسے دیں گے، کسانوں کو بھی جون میں سبسڈی دیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کا آغاز کردیا۔ بدھ کو اسلام آباد میں پروگرام کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد محنت کشوں کو بہتر کھانا فراہم کرنا ہے۔وزیراعظم نے احساس پروگرام کے حکام، ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور بیت المال کی ٹیم کو ‘کوئی بھوکا نہ سوئے’ پروگرام کے آغاز کی مبارکباد دی۔انہوں نے کہا کہ مجھے پناہ گاہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ یہ مستحق اور محنت کش کے لیے نعمت ہے۔وزیراعظم

نے کہا کہ ان پناہ گاہوں کے معیار میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے کہ مجبوری میں کوئی انسان جب یہاں آئے تو اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے، انہیں صاف ستھرا ماحول دیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ پناہ گاہ کا معیار آہستہ آہستہ پیچھے چلا گیا تھا اور اب ان کا معیار بہتر ہورہا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ سوچ بن گئی ہے

کہ غریب آدمی کو کسی خاص ٹریٹمنٹ کی ضرورت نہیں ہے لیکن ہمیں خیال رکھنا ہے کہ انہیں صاف ستھرا کھانا فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام پاکستان کے لیے بہت اہم ہے، بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بھوکے سوتے ہیں، کئی دفعہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کو کام نہ ملے تو وہ بھوکے سوتے ہیں تو ہم اس پروگرام کے

ذریعے ملک کو ایک فلاحی ریاست بنانے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پناہ گاہیں اور کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام ایک فلاحی ریاست کا آغاز ہیں کہ ٹرک بھر کر ان مقامات پر جائیں گے جہاں بھوک زیادہ ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس پروگرام کا پورا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا، اس پروگرام میں مسائل بھی آئیں گے جنہیں ساتھ ساتھ حل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام اس طرح کی سروس بن جائے گا کہ پورے پاکستان میں ہمارے ٹرکس نظر

آئیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس پروگرام میں بہت سے مخیر حضرات شرکت کرنا چاہتے ہیں۔وزیراعظم کے خطاب سے قبل ایم ڈی بیت المال عون عباس اور معاون خصوصی ثانیہ نشتر نے ‘کوئی بھوکا نہ سوئے ‘پروگرام سے متعلق بریفنگ دی۔اس پروگرام کے تحت محنت کشوں اور مستحق افراد کو موبائل ٹرکس کے ذریعے کھانا فراہم کیا جائے گا۔ابتدائی طور پر یہ موبائل ٹرکس اسلام آباد اور راولپنڈی میں چلائے جائیں گے جس کے بعد اس پروگرام کو ملک کے دیگر حصوں تک توسیع دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…