جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

”میرا جسم، میری مرضی“ عورت مارچ میں شریک خواتین نے آزادی کے نعرے لگا دیے

datetime 8  مارچ‬‮  2021 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک+ آن لائن) عالمی یوم خواتین کے موقع پر عورت مارچ کیا گیا، اس عورت مارچ میں میرا جسم میری مرضی کی خواتین بھی شریک ہوئیں، خواتین نے اپنے لباس پر میرا جسم میری مرضی لکھوا رکھا تھا، کئی خواتین نے لفظ آزادی لکھے ہوئے کتبے اٹھا رکھے تھے،یہ خواتین اپنی آزادی اور میرا جسم میری مرضی کی

بات کر رہی تھیں جبکہ اس کے برعکس تحفظ ناموس رسالت محاذ شعبہ خواتین کے زیر اہتمام عالمی یوم خواتین کے موقع پر پریس کلب تا اسمبلی ہال لاہور پیغام شرم و حیاء مارچ منعقد ہوا جس میں دینی مدارس کی معلمات، طالبات اور زندگی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی، مارچ کی شرکاء خواتین نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے پردگی، عریانی اور اخلاقی بے راہ روی کی بھرپور مذمت کی، مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مسز صاحبزادہ رضائے مصطفی نقشنبندی نے کہا کہ ہم مسلمان خواتین ہیں اور حیاء ہماری پہچان اور زیور ہے، مسلم معاشرے سے حیاء کو ختم کرنے والی خواتین مسلم معاشرہ کے شفاف چہرے پر سیاہ دھبہ ہیں، مسز مفتی حسیب قادری نے کہا کہ اسلام نے عورت کو بحیثیت ماں، بیوی، بیٹی، بہن جو حقوق اور مقام دیا ہے دنیا کا کوئی دوسرا مذہب اور معاشرہ نہیں دے سکتا، ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی تعلیمات کا عملی نفاذ کیا جائے، مسز نعیم جاوید نوری نے کہا کہ ہر سطح پر خواتین اور بچیوں کے تعلیمی ادارے علیحدہ کئے جائیں، تعلیمی اداروں یا ملازمت کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے، مسزمفتی عمران حنفی نے کہا کہ پاکستانی خواتین غیر ملکی قوتوں کی آلہ کار این جی اوز کے ورغلانے اور بہکانے میں نہ آئیں

بلکہ ہماری دینی اور مشرقی تشخص اور روایات کے ساتھ مضبوطی سے جڑی رہیں مسزممتاز ربانی نے کہا وفاقی اور صوبائی حکومتیں قتل غیرت اور کاروکاری جیسی ظالمانہ رسومات کے خلاف قانون سازی کو اور موثر بنائیں، نیز قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔مسز مشتاق فیضی اورمسز محمدعلی نقشبندی نے کہا کہ ہمارے ٹی وی

چینلز، سوشل میڈیا، اخبارات و رسائل پاکستانی کلچر کو فروغ دیں اور اس میں نسل نو کی تربیت کی جائے، ٹی وی ڈراموں اور سوشل میڈیا پر ٹک ٹاک اور اس جیسی دوسری ایپلی کیشن کے ذریعے پھیلائی جانے والی فحاشی، عریانی اور بداخلاقی کا فوری سدباب کیا جائے۔ مطلقہ، بیوہ خواتین اور یتیم بچیاں جن کی کفالت کا کوئی ذاتی انتظام نہ ہو ریاست اور معاشرہ ان کی کفالت کا مناسب اہتمام کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…