بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

غیر ملکی باشندوں کی گمشدگی میں پولیس افسران ملوث نکلے اغوامیں ملوث ایس ایچ او اورایس آئی او گرفتار

datetime 27  فروری‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے علاقے گزری سے بازیاب ہونے والے غیر ملکی باشندوں کی گمشدگی میں ایس ایچ او اور ایس آئی او ڈیفنس ملوث نکلے۔دونوں افسران نے لاکھوں روپے لے کر غیر ملکی باشندوں کو دلبر نامی شخص کے حوالے کیا تھا۔پولیس کے مطابق 3 نائیجیرین باشندوں کی گمشدگی کے کیس میں ایس ایچ او ڈیفنس محمدعلی اور ایس آئی او وسیم

ابڑو کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ایس ایس پی کے مطابق تینوں باشندوں کو اغوا کیا گیا تھا جنہیں گزری سے 14 نومبر 2020 کو بازیاب کرایا گیا اور ڈیفنس پولیس کے حوالے کیا گیا۔تینوں غیر ملکیوں کے اغوا کا مقدمہ ڈیفنس تھانے ہی میں درج تھا۔ڈیفنس پولیس نے نائیجیرین باشندوں کو سفارت خانے کے حوالے کرنے کے بجائے دلبر نامی شخص کے حوالے کر دیا جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔نائیجیرین باشندوں کے اغوا کے کیس میں 3 ملزمان گرفتار ہیں جنہوں نے دورانِ تفتیش پولیس کو بتایا ہے کہ دونوں گرفتار افسران نے لاکھوں روپے لے کر غیر ملکی باشندوں کو دلبر ملانو کے حوالے کیا۔پولیس کے مطابق دلبر کا تعلق شکارپور سے ہے جو کہ زمیندار ہے۔اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کراچی پولیس چیف نے ڈی آئی جی سی آئی اے عارف حنیف کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی، انکوائری کمیٹی میں ایس ایس پی اے وی سی سی ، عبداللہ حامد اور ایس ایس پی ساو تھ زبیر نذیر شیخ بھی شامل تھے، انکوائری رپورٹ

میں ، ایس ایچ او ڈیفنس سب انسپکٹر محمد علی اور ایس آئی او ڈیفنس وسیم ابڑو قصور وار قرار پائے ، اے وی سی سی پولیس نے ایک کارروائی میں 4 ملزمان کو بھی گرفتار کیا، گرفتار ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ انھوں نے غیر ملکیوں کو رہا کرنے کیلئے ایس ایچ او ڈیفنس سب انسپکٹر محمد علی اور ایس آئی او ڈیفنس وسیم ابڑو بھاری رشوت دی، جس پر اے وی سی سی پولیس نے ایس ایچ او ڈیفنس سب انسپکٹر محمد علی اور ایس آئی او ڈیفنس وسیم ابڑو گرفتار کر لیا جس نے تفتیش کا عمل جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…