بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ایم کیو ایم والوں نے کراچی والوں کی زندگی کا سودا کردیا، تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 21  فروری‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی)پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم والوں نے کراچی والوں کی زندگی کا سودا کردیا، ہمیں اس ملک میں نہیں جینا، اس ملک میں جینے سے بہتر ہے، مجھے موت آ جائے۔احتساب عدالت کراچی میں کلفٹن میں سرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ پی

ایس پی سربراہ مصطفی کمال و دیگر اور گواہ عدالت میں پیش ہوا۔نیب پراسیکیوٹر اصلی دستاویزات پیش نہیں کرسکے، انہوں نے عدالت سے مزید طلب کرلی۔ عدالت نے ریفرنس کی سماعت 9 مارچ تک ملتوی کردی۔پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفی کمال نے پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی مردم شماری ٹھیک نہیں ہوئی، پاکستان میں کچھ ٹھیک نہیں ہوگا۔ متنازع مردم شماری اس حکومت نے اس کو قانونی قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حکومت کی کوئی کام کرنے کی اوقات نہیں۔ مردم شماری کو کابینہ نے منظور کیا تو اگلی مردم شماری بھی ٹھیک نہیں ہوگی۔ کراچی میں پانی نہیں ہوگا، یہاں کے لوگوں کو روزگار نہیں ملے گا۔ آئین میں لکھا ہے ہر مردم شماری میں پانچ فیصد آڈٹ کرائی جائیگی۔انہوںنے کہا کہ ایم کیو ایم 35 سالوں سے اس شہر کی چوکیداری کر رہی ہے، میئر کرپشن کرکے باہر گھوم رہا ہے۔ ایم کیو ایم والوں نے کراچی والوں کی زندگی کا سودا کردیا۔ کراچی کی آبادی کم کردی گئی مگر پیپلز پارٹی کو کوئی تکلیف نہیں۔پی ایس پی چیئرمین نے کہا کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری پر وزیراعلی کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کی، جس پر آرمی چیف نے نوٹس لیا۔ بلاول کو جیسے کیپٹن صفدر کی گرفتاری پر غصہ آیا تھا اسی طرح مردم شماری پر بھی آنا چاہیے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ یہ تعصب کرنے والی حکومت ہے، اس طرح کی طرز حکمرانی سے زیادہ ملک کو نقصان ہوگا۔ مہاجر نام پر سیاست کرنا چاہوں تو ہر گلی میں آگ لگ جائیگی، لیکن وہ غلط راستہ ہوگا، پیپلز پارٹی کراچی میں غلط کر رہی ہے تو لاڑکانہ میں بھی غلط کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھی مہاجروں کے ساتھ برا نہیں کر رہا، یہ پیپلز پارٹی آپ کے ساتھ غلط کر رہی ہے۔ کراچی کو پانی، نوکری نہیں دی، کچرے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے۔ ہمیں اس ملک میں نہیں جینا، اس ملک میں جینے سے بہتر ہے، مجھے موت جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…