اتوار‬‮ ، 26 جولائی‬‮ 2026 

کرپٹ عناصر نے سکولوں و کالجوں کو بھی نہ بخشا، تعمیرو مرمت فنڈز میں مبینہ بے ضابطگیوں کا تہلکہ خیز انکشاف

datetime 18  فروری‬‮  2021 |

راولپنڈی (آن لائن)محکمہ تعلیم اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کی مبینہ ملی بھگت سے راولپنڈی میں طلباو طالبات کے مختلف ہائی سکولوں اور کالجوں میں نئے کمروں کی تعمیر، مرمت اور تزئین و آرائش کے لئے جاری فنڈز میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے یہ بے ضابطگیاں مجوزہ منصوبوں میں ناقص میٹریل کے استعمال اور

سرکاری رقوم میں خورد برد کے ذریعے کی گئیں 11تعلیمی اداروں میں کام کی تکمیل کے بعد متعلقہ ٹھیکیداروں نے منصوبوں کی تکمیل رپورٹ جاری کر دی لیکن متعلقہ اتھارٹیز نے ان منصوبوں کا انتظام لینے سے انکار کر دیا ذرائع کے مطابق گورنمنٹ گرلز ہائی سکول رتہ امرال میں75لاکھ روپے،گورنمنٹ گرلز ہائی سکول میلاد نگر میں ڈیڑھ کروڑ،گورنمنٹ گرلز ہائی سکول خیابان سرسید سیکٹر1اور2میں ڈیڑھ کروڑ روپے فی کس ،گورنمنٹ گرلز ہائی سکول صفدر آباد میں50لاکھ،گورنمنٹ کالج برائے خواتین موہن پورہ میں ڈیڑھ کروڑ ،گورنمنٹ بوائزہائی سکول امر پورہ میں50لاکھ،گورنمنٹ گرلز ہائی سکول گلزار قائد میں25لاکھ ،گورنمنٹ بوائزہائی سکول گلزار قائد میں25لاکھ کرسچین بوائز ہائی سکول راجہ بازار میں1کروڑ روپے کی لاگت سے اضافی کمرے بنائے جانے تھے جبکہ 25لاکھ روپے میں پاکستان گرلز ہائی سکول صرافہ بازار کی تزئین و آرائش اور مرمت کی جانی تھی لیکن مقررہ مدت سے زائد وقت لگانے کے بعد تکمیل کے ساتھ ہی تعمیراتی کام کے نقص سامنے آگئے ذرائع کے مطابق مختلف تعلیمی اداروں میں نو تعمیر شدہ بلاکس اور کمروں میں سے بعض کے فرش بیٹھ گئے ، بعض کی چھتیں لیک کرنے لگ گئیں اور اسی طرح سیوریج و نکاسی میں ناقص میٹریل لگانے سے یہ استعمال سے قبل ہی ناکارہ

ہونے لگے زرائع کے مطابق اس حوالے سے بعض تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور والدین کی جانب سے متعلقہ حکام کو بروقت آگاہ کرنے کے باوجود ٹھیکیداروں کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی گئی جبکہ ٹھیکیداروں کی جانب سے تکمیل رپورٹ کرنے کے باوجود اداروں کی انتظامیہ نے نوتعمیر شدہ حصوں کا چارج لینے سے انکار کر دیا

اس ضمن میں رابطہ کرنے پر بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے ایکسئین ریاض بٹ نے بتایا کہ ہمیں تو ایسی کوئی شکائیت موصول نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ چارج لینے والے اگر ہمیں اپنے اعتراضات سے آگاہ کریں گے تو ہمیں پتہ چلے گا انہوں نے کہا اگرچہ اس منصوبوں سے ہٹ کربعض ٹھیکیداروں کے کام میں شکایات سامنے آئی تھیں لیکن جب

انہیں کام کی درستگی کا کہا گیا تو تو وہ مختلف قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں اور درخواست بازیوں پر اتر آئے اس کے باوجود یہ بات طے ہے کہ خواہ کوئی احتجاج کرے یا ہڑتال کرے سرکاری وسائل کا غلط استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا اور سرکاری منصوبوں کی ان کی اصل روح کے مطابق تکمیل یقینی بنائی جائے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



2076ء


آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…