بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سرکاری اداروں کے نام پر ہزاروں جعلی گاڑیاں رجسٹرڈ ہونے کا تہلکہ خیز انکشاف

datetime 18  فروری‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی)سرکاری اداروں کے نام پر ہزاروں جعلی گاڑیاں رجسٹرڈ ہونے کاانکشاف ہوا ہے جبکہ سیکڑوں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن کا بھی سراغ لگا لیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق محکمہ ایکسائز کی جانب سے جعلی گاڑیوں کی رجسٹریشن سکینڈل میں پیشرفت سامنے آئی،سرکاری اداروں کے نام پر ہزاروں جعلی گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئیں، متعلقہ سرکاری ادارے نے تردیدی خط اینٹی کرپشن کو ارسال کردیا اور نیلام گاڑیوں کے جعلی واؤچرز کی تصدیق کر دی۔خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ادارے نے مذکورہ گاڑیوں کونیلام نہیں

کیا، مفاد کنندگان کی طرف سے دکھائے گئے واؤچر جعلی ہیں۔اینٹی کرپشن حکام نے کہا ہے کہ محکمہ ایکسائز لاہور کے چند افسران نے جعلی گاڑیاں رجسٹر کیں، جس سے سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا، مفاد کنندگان کے بینک اکاؤنٹ سے کروڑوں کی ٹرانزیکشن کا ڈیٹا حاصل کرلیا ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ سیکڑوں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن کا بھی سراغ لگالیا ہے، محکمہ ایکسائز لاہورمیں لگژری نان کسٹم پیڈگاڑیاں رجسٹرڈ ہوتی رہیں، ایکسائز کے افسران کی ملی بھگت سے مفاد کنندگان اربوں پتی بن گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…