منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

فیصل واوڈا سینیٹ کا الیکشن کیوں لڑ رہے ہیں،آخر انہیں کس بات کا خوف ہے؟ اصل وجہ تو اب سامنے آئی وفاقی وزیر اسد عمر نے اندر کی بات بتادی

datetime 17  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ سینیٹ کیلئے پی ٹی آئی کے ایک سے زیادہ لوگوں نے ٹکٹ جمع کروائے ہیں، سینیٹ ٹکٹوں سے متعلق حتمی فیصلہ کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ تک ہوگا، نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو

کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف سندھ کا فیصل واوڈا کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے پرا عتراض سمجھ میں آنے والا ہے، صاف بات ہے ایک ایم این اے کو سینیٹ کا ٹکٹ کیوں دیا جارہا ہے، فیصل واوڈا کی ترجیح ہے انہیں سینیٹ میں منتقل کردیا جائے یہ بھی سمجھ میں آنے والی بات ہے کیونکہ دہری شہریت کیس کا فیصلہ فیصل واوڈا کیخلاف آسکتاہے، فیصل واوڈا سینئر لیڈر اور وفاقی وزیر ہیں اس لئے ان کی ترجیح پر انہیں سینیٹ کا الیکشن لڑایا جارہا ہے۔ دہری شہریت کیس میں فیصلہ فیصل واوڈا کیخلاف آیا تو دوبارہ الیکشن ہوگا ،فیصل واوڈا کے پاس الیکشن میں دوبارہ حصہ لینے کا حق ہوگا،اسد عمر نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے،پہلی بار بلوچستان سے کوئی چیئرمین سینیٹ بنا ہے، اگلا چیئرمین سینیٹ بھی صادق سنجرانی کو ہی ہونا چاہئے، ہم ایک سے زائد مرتبہ اپوزیشن کو سرپرائز دے چکے ہیں، اپوزیشن پتہ نہیں کیوں شفاف الیکشن کیلئے اوپن بیلٹ نہیں مان رہی، امید ہے سپریم کورٹ

اوپن بیلٹ پر ایسا فیصلہ دیگی جس کے بعد یہ سوال ختم ہوجائے گا کہ کون کس کو سرپرائز دے گا۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ اگر پہلے 5لوگ بکتے تھے اب ہوسکتا ہے اوپن بیلٹ کی وجہ سے 2لوگ بکیں، اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کبھی پی ڈی ایم کے جلسوں میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے نہیں کہا، عوامی رائے کو کنٹینر لگانے یا پولیس ایکشن سے نہیں روکا جاسکتا۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…