جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

2پاکستانی صحافی علی سدپارہ کی موت کے ذمہ دار قرار

datetime 13  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق پاکستانی کوہ پیما نذیر صابر کا کہنا ہے کہ نیپالی کوہ پیمائوں نے کیمپ 2 تک کا سفر علی سدپارہ کی لگائی گئی رسیوں پر کیا اوراس کے بعد کے ٹو تک پہنچنے کے لیے جو رسیاں لگائیں وہ اتار کر واپس بھی لے آئے،جمیل نگری اور ناصر عباسجیسے بے وقوفوں نے نعرے لگا لگاکر سدپارہ کو اوپر بھیجا اور ان کی موت کے ذمہ دار ہیں۔تفصیلات کے مطابق

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں 65 سالہ نذیر صابر کا کہنا تھا کہ نیپالی کوہ پیمائوں نے کیمپ 2 تک کا سفر علی سدپارہ کی لگائی گئی رسیوں پر کیا اوراس کے بعد کے ٹو تک پہنچنے کے لیے 600 میٹر لمبی جو رسیاں لگائیں وہ اتار کر واپس بھی لے آئے حالانکہ وہ جانتے تھے کہ نیچے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اوپر آنا ہے،علی سدپارہ کے ساتھ موجود جان سنوری کو فراسٹ بائیٹ ہوگیا تھا اور چلی سے تعلق رکھنے والا کوہ پیما کوئی پروفیشنل کوہ پیما نہیں تھا بلکہ بطور کمرشل کام کرتا تھا۔نذیر صابر کا کہنا تھا کہ یہ سوال بنتے ہیں کہ بوٹل نیک سے چوٹی تک علی اور ان کے ساتھیوں نے کس طرح رسیاں لگائی ہوں گی؟،مجھے نہیں لگتا کہ علی اور ان کے ساتھی کے ٹو کی چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکے ہوں گے۔نذیر صابر کا کہنا تھا کہ قومی اخبار کے رپورٹر جمیل نگری اور ایڈیٹر ناصر عباس جیسے بےوقوفوں نے نعرے لگا لگاکر سدپارہ کو اوپر بھیجا اور ان کی موت کے ذمہ دار ہیں،اس کا ذمہ دار سوشل میڈیا بھی ہے۔دوسری جانب لاپتہ ہونے والے کوہ پیمائوں کے خاندان نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے لاپتہ کوہ پیمائوں کے برفانی غار بنا کرپناہ لینے کا امکان ظاہر کردیا جہاں کھانے اور پانی گرم کرنے کا سامان وافر مقدار میں ہوا تو زندہ ہو سکتے ہیں۔ تینوں لاپتہ کوہ پیمائوں کے اہلخانہ نے مشترکہ بیان میں ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ چار روزہ مسلسل فضائی تلاش میں کچھ پتہ نہچل سکا۔منجمد حرارت، تیز ہوا اور دھند کے باعث سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں کامیابی نہ مل سکی۔مشترکہ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ لاپتہ کوہ پیمائوں کی تلاش کے لیے پس پردہ بہت کام ہو رہا ہے۔سرچ ٹیم آئس لینڈ اسپیس ایجنسی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔جدید نظام کے ذریعےپہاڑ کی بلندی پر ایک ایک انچ کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اعلامیہ میں یہ بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ممکن ہے کہ کوہ پیمائوں نے برف کی غار بنائی ہو اور اس کے اندر پناہ لی ہو۔برفانی غار میں کھانے کی چیزیں پانی گرم کرنے کی سہولت ہو تو زندہ رہا جا سکتا ہے۔اعلامیے میں

تینوں خاندانوں نے آرمی چیف، عسکری ادارہ تعلقات عامہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان قوم کے مشکور ہیں جنہوں نے علی سدپارہ کے لے دعائیں کیں۔تینوں خاندان پوری دنیا کے ماونٹیرز کمیونٹی کے بھی مشکور ہیں۔یا درہے لاپتہ کوہ پیمائوں کی تلاش کے لیے پہلی بار سنتھٹک اپرچر ریڈار ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔مائیکرو سیٹلائٹ ارتھ آبزرویشن ٹیکنالوجی سے ہر مربع میٹر تلاش کر سکتے ہیں۔جن بلندیوں پر ہیلی کاپٹر کی پہنچ ممکن نہ ہو وہاں یہ ٹیکنالوجی بہت کارآمد ہے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…