جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

خواتین کے ایف ایم ریڈیوکو فون کال کرنے پر پابندی لگادی گئی،کال کی صورت میں بھاری جرمانہ

datetime 6  فروری‬‮  2021 |

باجوڑ (آن لائن)باجوڑ میں قبائلی جرگے نے مقامی خواتین کے ایف ایم ریڈیو کو ٹیلی فون کال کرنے پر پابندی عائد کردی ہے اور خواتین کی فون کال کی صورت میں دس ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا ہے جب کہ کے پی حکومت نے جرگے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے کر انتظامیہ کو کارروائی کی ہدایت کر دی ہے۔ میڈیارپورٹس کےمطابق باجوڑکی تحصیل ماموند کے قبائلی عمائدین کے

جرگے نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ قبائلی خواتین ایف ایم ریڈیو میں براہ راست کال کر کے حصہ نہیں لے سکتیں، یہ قبائلی روایات کے خلاف ہے۔جرگے نے منشیات فروشوں کو دو ہفتے کی ڈیڈلائن دیدی منشیات فروش رضاکارانہ طور پر اپنا کاروبار ختم کرے۔ دو ہفتے بعد منشیات فروشوں کے خلاف لشکر کشی کا فیصلہ کیا جائے گا تاہم قبائلی ضلع میں خواتین کے ریڈیو کالز پر پابندی اور سہولت سینٹر آمد کو روکنے پر خیبر پختونخوا حکومت بھی میدان میں آ گئی۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلی تعلیم کامران بنگش نے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ قبائلی روایات اور اقدار کی کے پی حکومت بہت قدر کرتی ہے۔ جرگے کو قانونی شکل دینے کے لئے ڈی آر سی موجود ہے۔ خواتین پر پابندی یا اس قسم کے کسی بھی غیر قانونی عمل کو لاگو نہیں ہونے دیا جائے گا۔ باجوڑ میں قبائلی جرگہ اپنا فیصلہ واپس لے بصورت دیگر جرگہ ممبران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر باجوڑ فیاض شیرپاؤ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خواتین کو صدائے امن مرکز جانے سے روکنا، ریڈیو کال پر پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ مقامی قبائل کے ساتھ مذاکرات کرکے مسئلہ کا حل نکالا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ قبائلی عمائدین کی جانب سے بات نہ ماننے کیصورت میں اْن کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی ہوگی، کیوں کہ اب انضمام کے بعد پاکستانی آئین اور قانون کے مطابق کوئی بھی شخص خواتین کو صدائے امن مرکز جانے یاان کے حقوق سے نہیں روک سکتا۔فیاض شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ کہ خواتین کو باہر جانے سے روکنا کسی بھی قانون اور رواج میں نہیں ہے، اگر قبائلی مشران کو تحفظات ہیں تو ہمیں بتادیں لیکن اْن پر پابندی لگاناغیر قانونی ہے اور عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…