منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

قبضہ گروپوں اور شریف خاندان میں باہمی اشتراک۔۔500ارب کی ریکوری ، 200ارب کی زمین واگزار کروا لی گئی ، حکومت کا بڑا اعلان 

datetime 28  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری  نے کہاہے کہ پاکستان کے اندر سے اب تک ان سے تقریبا 500 ارب روپیہ ان سے واپس لیا جاچکا ہے جس سے ان کی چیخیں نکل رہی ہیں، بیرون ملک سے بھی پیسہ واپس لائیں گے،(ن)لیگ والے شرمندہ ہونے کے بجائے قبضہ گروپ کی پشت پر کھڑے ہوگئے، آصف زرداری، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن چاہتے ہیں کہ

پیسے سمیت ہمیں معاف کردیں، ہم معاف کرنے کے لیے تیار ہیں، بیرون ملک سے بھی پیسہ واپس لائیں گے، اب ایک الگ کمیشن لایا جارہا ہے جن سے ان کی چیخیں اور زیادہ نکلیں گی۔وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ  کل مریم نواز کھوکھر برادران کے گھر گئیں اور اپنی سیاسی حمایت کا یقین دلایا، (ن)لیگ والے شرمندہ ہونے کے بجائے قبضہ گروپ کی پشت پر کھڑے ہوگئے، مسلم لیگ (ن)ایک بہت بڑا مافیہ تھا جو پنجاب پر حکمرانی کرتا رہا۔انہوں نے کہا کہ ‘ماضی میں لوگوں کے لیے کرپشن کوئی بڑی بات ہی نہیں تھی، ان کے مطابق قبضہ گروپ زمینوں پر قبضہ کرتے تھے اور حکومت انہیں نہیں پوچھتی تھی، قبضہ گروپوں اور شریف خاندان میں باہمی اشتراک چل رہا تھا اور جاتی امرا کی سیکڑوں ایکڑ کی جائیداد ان ہی قبضہ گروپوں کی وجہ سے جمع ہوئی ہے، یہی معاملہ پورے پنجاب میں نظر آتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ  پاکستان کے اندر سے اب تک ان سے تقریبا 500 ارب روپیہ ان سے واپس لیا جاچکا ہے جس سے ان کی چیخیں نکل رہی ہیں، بیرون ملک سے بھی پیسہ واپس لائیں گے، اب ایک الگ کمیشن لایا جارہا ہے جن سے ان کی چیخیں اور زیادہ نکلیں گی، جب ان کی چیخیں نکلتی ہیں تو ان کے حق میں مہم شروع کردی جاتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘ہمارا مقصد کمیشن کے ذریعے بیرون ملک موجود پیسہ پاکستان میں واپس لانا ہے، عمران خان سے ان کی لڑائی صرف یہ ہے کہ وہ انہیں این آر او نہیں دے رہے، آصف زرداری، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن چاہتے ہیں کہ پیسے سمیت ہمیں معاف کردیں، ہم معاف کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن پیسہ لوگوں کا ہے وہ واپس کریں۔شہزاد اکبر نے کہا کہ ‘کل ایک بڑی عجیب بات ہوئی کی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لاہور کے ایک بڑے قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کی جس کی ‘

شرافت کی گواہی پورا لاہور دیتا ہے’، اس کارروائی کی تعریف کرنے کے بجائے ملبے پر کھڑے ہوکر گمراہ کن باتیں کی گئیں ۔انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘پنجاب میں قبضہ مافیا کیخلاف کارروائی میں 200 ارب سے زائد کی سرکاری زمین واگزار کرائی جاچکی ہے، جن پر مختلف بااثر لوگوں کا ناجائز قبضہ تھا، ہم ان بااثر لوگوں کے نام سامنے لانا نہیں چاہتے تھے لیکن مریم نواز نے

کل خود جاکر ہمیں دعوت دی کہ ہم اصل حقیقت سامنے لائیں اور بتائیں کہ قبضہ گروپوں کے خلاف کارروائی میں کون سے مالی فوائد تھے جن سے شریف خاندان کو مسئلہ ہوا ۔ان کا کہنا تھا کہ کھوکھر برادران کے پاس 47 کنال میں سے 45 کنال سرکاری رقبہ تھا، ان سے جو زمین بازیاب کرائی گئی وہ 1500 کروڑ کی تھی، جو رقبہ واگزار کرایا گیا اس پر کوئی حکم امتناع نہیں اور وہ سرکار کے

پاس ہے۔شہزاد اکبر نے بتایا کہ ان ہی لوگوں سے ایک ہزار 52 کنال سرکاری زمین قصور میں واگزار کرائی گئی، لاہور کے نواح میں80 کنال اور 4 مرلہ سرکاری زمین تھی جو کمرشل استعمال ہو رہی تھی وہ واگزار کرائی گئی، 2 سال قبل سپریم کورٹ نے اس ہی گروہ کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ‘گوجرانوالہ کے وسط میں خرم دستگیر کے والد غلام دستگیر کا 2 کنال 11 مرلے پر ایک پمپ اور سی این جی اسٹیشن گرایا گیا، دانیال عزیز کے والد کے نام 2400 کنال زمین تھی جو سرگودھا میں

واگزار کرائی گئی، چوہدری تنویر سے راولپنڈی میں 5000 کنال کی بینامی زمین سرکار نے واپس لی ۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جاوید لطیف سے 8 کنال دو مرلے، ایک سرکاری جگہ پر ویگن اڈا، ایک اور مقام سے 30 کنال 16 مرلے سرکاری زمین اور شیخوپورہ سے غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے سروس اسٹیشن اور 5 دکانیں وگزار کرائی گئیں، خواجہ آصف کی اہلیہ اور بیٹے کے نام سوسائٹی میں سرکاری رقبہ غیر قانونی طور پر شامل کیا گیا تھا جو واگزار کرایا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…