منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

جج کو بول تیرا باپ آیا ہے ، پولیس 2منٹ میں”ڈیش” ہو جائیگی ڈرامہ بند کرو اور باہر آئو، وکلا گردی کی ایک اور ویڈیو وائرل

datetime 23  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مشرف دور میں جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کے وقت وکلا نے جس مزاحمت کا راستہ اپنایا اس میں تمام سیاسی جماعتوں اور پاکستان کے عوام نے بھی ان کا ساتھ دیا،مگر اس وکلا تحریک کے بعد سے تو جیسے وکلاآزاد ہی ہو گئے،اب جب بھی وکلا کا دل کرتا

ہے تو یہ ہسپتالوں کے ڈاکٹرز کو مارنے چلے جاتے ہیں جب ان کا دل کرتا ہے یہ ہائیکورٹ پر چڑھائی کر دیتے ہیں اور جب دل کرے یہ چھوٹی عدالتوں کے ججوں کو”تنگ” کرنا شروع کر دیتے ہیں۔کبھی دکھیاری خواتین پر ٹھڈوں کی بارش کرتے اور بزرگ درخواست گزاروں کو ذلیل کرتے نظر آتے ہیںاور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ، سوشل میڈیا پر وکلا گردی کی ایک ویڈیو بڑی تیزی کیساتھ وائرل ہورہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بھری عدالت میں چند وکلا موجود ہیں جن میں سے ایک صاحب سامنے کھڑے جج کے اسسٹنٹ کو کہتا ہے کہ جج صاحب سے کہیں باہر آئیں اورمجھ سے ملیں،آگے سے ملازم کھسیانا ہو کر ہلکا سا جواب دیتا ہے تو وکیل صاحب کافی غصے میں کہتا ہے کہ جج کو جا کر بول یہ ڈرامہ بند کرے اور یہ پولیس وغیر دو منٹ میں” ڈیش ”پرچڑھ جائے گی۔اسے کہو باہر آئے اور سیدھی طرح ملاقات کرے۔ جج صاحب چونکہ اپنے چیمبر میں چھپے بیٹھے تھے ا ور انہوں نے اپنے تحفظ کے لیے پولیس بلا لی

تھی۔لہذٰا عدالت کے اندر اور جج کے چیمبر کے باہر یہ لوگ دھینگا مشتی کررہے تھے۔قدرے توقف کے بعد وکیل نے جج کے اسسٹنٹ سے پھر کہاکہ جائو جج سے کہو تمہارا باپ ملنے آیا ہے۔وکیل کے پیچھے کھڑے اورکسی صاحب نے آواز دی کہ جج سے کہو صرف سیکرٹری جنرل ہی ان سے بات کرے گااور کوئی شخص ملاقات کے لیے نہیں آئے گا۔سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے وکلا کی اس حرکت پر شدید ردعمل سامنے آرہا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…