اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

حکومت کا فارمولا کام کرگیا پی ڈی ایم کے تمام ”منصوبے” بری طرح فلاپ

datetime 19  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)حکومت کی جانب سے ،،روک نہ ٹوک،،فارمولا نے پی ڈی ایم کے احتجاج کو سست روی کا شکار کر دیا ،شاہراہ دستور پر تما م سرکاری دفاتر حسب معمول کام میں مصروف رہے ،پہلا قافلہ تین بجے بھارہ کہو سے روانہ ہوا جبکہ دیگر قائدین کا انتظار کرتے رہے ہیں۔

یوسی چیئرمین گھروں میں بیماری کا بہانہ بنا کر لیٹ گئے ،معلومات کے مطابق منگل کو پی ڈی ایم کے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کو حکومت کی پالیسی نے اس وقت سستی سے دوچار کر دیا جب کہا گیا کہ ریڈزون تک کوئی ناکہ بھی نہ ہوگا نہ کنٹینر لگایا جائے گا،حکومت کے اعلان کے بعد پی ڈی ایم قائدین جو کہ کشمیر ہائی وے،سری نگر وے،بھارہ کہو اور سپر ہائی وے پر ہلڑ بازی کر نے کا پلان ترتیب دے چکے تھے ان کا الیکشن کمیشن کے باہر ٹھہر گیا ،مسلم لیگ کے ایک یو سی چیئرمین نے بتایا کہ انکی ڈیوٹی ایک شاہراہ پر نعرہ بازی اور تھوڑا سا شور غل تھا مگر حکومت کی جانب سے روک ٹوک نہ ہونے پر وہ کیا کریں اس سے بہتر ہے کہ بیماری کے بستر پر ہی لیٹ جایا جائے،جے یو آئی ،ف،کے ذرائع نے بتایا کہ انہیں بھی دن دس بجے مری روڈ اور سپرہائی وے پر پہنچ کر مظاہرہ کرنا تھا لیکن جب حکومت کی جانب سے رکاوٹ ہی نہیں تو مظاہرہ اورہلڑبازی کہاں کی جائے،پارلیمنٹ اور دیگر اداروں کے سرکاری

ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ حسب معمول اپنے کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں،پاکستان پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج جمہوریت کا حسن ہے مگر پی ڈی ایم کے فور م پر ہی بتا دیا ہے کہ کسی بھی انتشار کی صورت میں وہ مظاہرہ سے لاتعلقی اختیار کریں گے،اس حوالہ سے عام شہریوں کی رائے ہے کہ پی ڈی ایم کے جلسہ کو ایک حکمت عملی کے تحت انتشار سے بچا کر پرامن لایا گیا،اور انتشار پسند وں کے پروں پر پانی پھیر دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…