منگل‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2026 

5 ماہ بعد بھی بی آر ٹی پشاور کے واش رومزمکمل نہ ہو سکے

datetime 17  جنوری‬‮  2021 |

پشاور(این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے 13 اگست 2020 کو بی آر ٹی پشاور کا افتتاح تو کر دیا مگر منصوبے کے نہ تو اسٹیشنز بیت الخلا مکمل ہو سکے اور نہ ہی منصوبے کے لیے آمدن کا ذریعہ بننے والے کمرشل پلازے مکمل ہو سکے۔ پاکستان تحریک انصاف حکومت کا میگا پراجیکٹ بی آر ٹی منصوبے کو شروع

ہوئے 5 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا مگر بیشتر بس اسٹیشنز پر مسافروں کے لیے تاحال باتھ رومز تک نہیں بن سکے ہیں۔باتھ رومز میں واٹر اینڈ سینیٹریشن کا سامان نصب نہ ہونے کی وجہ سے خالی باتھ رومز گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں، اسٹیشنز پر موجود باتھ رومز کے نام پر خالی کمرہ شام ہوتے ہی پوڈریوں اور ہیرونچیوں کی آماج گاہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔منصوبہ کی آمدن میں اضافہ کے لیے تین کمرشل پلازے بھی تعمیر ہونا تھے جو ابھی تک نامکمل ہیںدوسری جانب ڈی جی پی ڈی اے کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹرز کے ساتھ درپیش مسائل کی وجہ سے تعمیراتی کام رکا ہوا تھا جو آیندہ 20 سے 25 دن میں دوبارہ شروع کر دیا جائے گا، باتھ رومز اور کمرشل پلازوں کا کام جلد مکمل کیا جائے گا۔دوسری طرف صوبائی وزیر سماجی بہبود خیبر پختونخوا ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ محمود خان کی زیر قیادت صوبائی حکومت اور وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق محکمہ سوشل ویلفیئر نے صوبے کے خصوصی و مستحق افراد کو بہتر روزگار اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے لئے اہم اقدامات لینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کیلئے ابتدائی طور پر 67 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ان خیلات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائشگاہ پر مختلف وفود اور نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے

کیا۔ اس موقع پر وفود نے محکمہ سوشل ویلفیئر میں جاری اصلاحات اور اقدامات کو سراہتے ہوئے صوبائی وزیر ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان کی کاؤشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ صوبائی وزیر ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا کہ صوبے کے چار پسماندہ اضلاع اپردیر، شانگلہ، ٹانک اور لکی مروت میں قرعہ اندازی کے ذریعے بارہ سو

خصوصی افراد کی استعداد کار میں اضافہ اور بزنس سپورٹ کے لئے پہلی بار جامع پراجیکٹ شروع کر رہے ہیں جسکا دائرہ صوبے کے دیگر اضلاع تک مرحلہ وار بڑھایا جائیگا۔ خصوصی افراد و مستحق کو کارگو لوڈر، فصل کاٹنے، گندم پسائی اور آئس کریم بنانے والی مشین کی فراہمی کے علاوہ روزگار کے دیگر آلات اور مالی امداد دی

جائیگی جس سے انکی ماہانہ آمدن چالیس ہزار سے ساٹھ ہزار روپے تک بڑھ جائیگی، جس سے وہ اور انکا گھرانہ خوشحال زندگی بسر کرنے کے قابل ہو جائیگا۔ ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا کہ بے سہارا اور کمزور لوگوں کی فلاح وبہبود ہمارا فرض ہے اور وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق انکی معیشت و فلاح وبہبود پر پہلی بار خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…