نئی دہلی (نیوزڈیسک)بھارتی تاجر ان دنوں سخت پریشانی میں ہیں۔ اگر عالمی طاقتوں اور ایران کے مابین جوہری معاہدہ طے پا جاتا ہے اور ایران پر لگی پابندیاں ہٹا لی جاتی ہیں تو بھارتی تاجرین اور سرمایہ کاروں کو کاری ضرب لگے گی۔بھارتی تاجر پنکج بنسال کی راتوں کی نیندیں اڑ چکی ہیں۔ وہ کہتے ہیں:”میں خواب آور گولیاں لینے پر مجبور ہو گیا ہوں کیونکہ میں بھیانک خواب دیکھنے سے ڈرتا ہوں۔ ایران کے ساتھ میرا بزنس تیزی سے زوال پذیر ہے۔“ 43 سالہ بنسال تجارتی کمپنی TMA کے مالک ہیں اور ان کی فرم دھاتی مصنوعات سے لے کر موٹر گاڑیوں کے پ±رزہ جات اور کیمیائی مصنوعات تک تیار کرتی ہے۔ایران پر مغربی دنیا کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیوں کے سبب بنسال کو ایران کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا نادر موقع مل گیا تھا۔ ایران اور مغربی طاقتوں کے مابین تہران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے بارے میں مذاکرات کا سلسلہ گرچہ کافی طول پکڑ گیا تاہم جمعے کو اس بات چیت کے کسی منطقی انجام تک پہنچنے کی امید کی جا رہی ہے۔پنکج بنسال ان ہزاروں برآمد کنندگان میں شامل ہیں، جنہوں نے تین سال تک تہران کے ساتھ اپنی تجارتی سرگرمیوں کو بہت فروغ دیا کیونکہ بھارت نے مغربی طاقتوں کی طرف سے ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کا ساتھ نہیں دیا تھا اور اس عرصے میں بھارت کی ایران کے ساتھ برآمدات دگنے اضافے کے ساتھ پانچ بلین ڈالر تک پہنچ گئی تھیں، جس سے دو طرفہ تجارتی خسارے کو نصف کرنے میں بھی مدد ملی تھی۔اب بھارتی تاجرین کو یورپی یونین اور امریکی مد مقابل تاجروں سے خطرات لاحق ہیں اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں، جب ایشیا کی اس تیسری بڑی اقتصادی قوت کو عالمی تجارتی منڈی میں سست روی کے سبب اپنی برآمدات میں 20 فیصد کی کمی کا سامنا ہے۔ایران اب تجارتی معاملات میں جنوبی امریکی ملکوں سے رجوع کر رہا ہے۔ بھارت کے مقابلے میں یہ ممالک ایران کو کہیں کم قیمتوں میں برآمدی اشیاء فراہم کر رہے ہیں۔ بھارت کی سولوینٹ ایکسٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بی وی مہتا کہتے ہیں، ”ا±ن کی قیمتیں اتنی کم ہیں، ہم ا±ن ممالک سے مقابلہ نہیں کر سکتے“۔بھارت کی ایکسپورٹ آرگنائزیشنز کی فیڈریشن کے صدر ایس سی رلہان کا کہنا ہے کہ ایران پر لگی مغربی ممالک کی پابندیاں ختم ہونے کے بھارت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ لاکھوں کسانوں کو بھی شدید دھچکا لگے گا کیونکہ ایران بھارت سے باسمتی چاول، سویا، چینی اور گوشت کا بڑا خریدار ہے۔ ایران پر اقتصادی پابندیوں کے دور میں تہران حکومت بھارت کو عالمی منڈی کی قیمتوں کے مقابلے میں 20 فیصد تک زیادہ قیمت بطور پریمیم ادا کرتی رہی ہے۔بھارتی ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ایران پر سے پابندی اٹھنے کے بعد جرمنی، فرانس اوراٹلی کی وہ فرمیں جو پہلے کبھی ایرانی مارکیٹ پر چھائی رہی ہیں، پھر سے اپنی اشیائے صرف کے ساتھ ایرانی مارکیٹ پر غلبہ حاصل کر لیں گی۔ ملبوسات سے لے کر گاڑیوں تک کے ساتھ ساتھ رفتہ رفتہ تہران کے لیے میٹرو کی تعمیر جیسے التوا کے شکار بڑے پروجیکٹ کا ٹھیکا بھی انہیں دوبارہ مل جائے گا۔چنئی میں قائم ایک ایکسپورٹ کمپنی، جو ماضی میں بھارت کی ایکسپورٹ فیڈریشن کی سربراہی کرتی رہی ہے، کے ایک اعلیٰ عہدیدار رفیق احمد کا کہنا ہے، ”روایتی طور پر ایران یورپی اشیاء کا شیدا رہا ہے۔ کمزور ہوتی یورپی کرنسی یورو کی وجہ سے یورپی برآمد کنندگان کا مقابلہ کرنا ہمارے لیے آسان نہیں ہو گا“۔
ایران کی ممکنہ جوہری ڈیل،بھارت کے لیے ایک ڈراونا خواب
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
کورونا بوسٹر ویکسین لگوانے والوں کیلئے اہم خبر ، سائنسدانوں کا بڑا انکشاف
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک
-
بجلی کے یونٹ پر سیلز ٹیکس کا نیا طریقہ کار نافذ
-
پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
4 اگست کو سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان
-
دانتوں کے کیڑے سے بچاؤ کا مؤثر اور آسان طریقہ سامنے آگیا
-
55 سالہ شخص کی 2 کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی
-
متحدہ عرب امارات نے محدود مدت کیلئے بڑی سہولت دے دی
-
ہاتھ ملانے پر پابندی، بھارتی ویمن کھلاڑی فاطمہ ثناء کے گلے لگ گئیں، ویڈیو وائرل
-
جامعات اور کالجز میں دو روزہ تعطیل کا فیصلہ
-
اگست سے اکتوبر تک ملک میں معمول سے کم بارشوں اور زیادہ گرمی کی پیشگوئی
-
رشتے کے تنازع پر مخالفین کی گھر میں فائرنگ، 3 بھائی جاں بحق, بچہ زخمی
-
گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
’دشمن بھی خاندانی ہونا چاہیے‘، ثاقب چدھڑ کا عروبہ مرزا کو کرارا جواب



















































